Feb ۰۸, ۲۰۲۳ ۱۶:۴۱ Asia/Tehran
  • مسجد الاقصی کو مسمار کرنے کی صیہونیوں کی کوشش پر تحریک حماس کا سخت انتباہ

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے مسجد الاقصی کے قبہ الصخرہ کے مغربی حصے میں پتھروں کے گرنے کی ذمہ داری غاصب صیہونی حکومت کی انتہا پسند کابینہ پر عائد کی ہے۔

سحرنیوز/عالم اسلام: مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان محمد حمادہ نے مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد الاقصی کے قبہ الصخرہ کے مغربی حصے میں پتھروں کے گرنے کو نہایت خطرناک اور مسجد الاقصی کے خلاف غاصب صیہونی دشمن کی جاری جارحیت اور حالیہ برسوں کے دوران مسجد الاقصی کی تعمیر و مرمت روکے جانے کا نتیجہ قرار دیا  اور تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ یہ صورت حال مسجد الاقصی، فلسطینی نمازیوں اور اس مسجد میں اعتکاف کرنے والوں کے لئے خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔
تحریک حماس کے ترجمان نے کہا کہ فلسطینی قوم، دشمن کی سازشوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی بنی ہوئی ہے اور مسلمانوں کے قبلہ اول کو بچانے کی ہرممکن کوشش کر رہی ہے۔
مقبوضہ بیت المقدس میں حرم مطہر تین مساجد سے تشکیل پاتا ہے مسجد الصخرہ، مسجد عمر اور مسجد الاقصی اور قبہ الصخرہ اسلامی معماری کا شاہکار، بلند ترین بارگاہ اور حرم شریف میں مقبرے کی حیثیت رکھتا ہے جو انتہائی کمال کے ساتھ اب تک باقی ہے اور پیر کے روز مصلای قبۃ الصخرہ کے مغربی حصے کا ایک پتھر گر گیا۔
دوسری جانب غاصب صیہونی حکومت کی کابینہ ایک اور غاصبانہ منصوبے کے تحت فلسطین کے قلندیا کیمپ کے قریب نو ہزار رہائشی مکانات بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
الہدہد ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں نتن یاہو کی وزارت عظمی کے دور میں غاصب صیہونی حکومت کی انتہا پسند کابینہ مقبوضہ شمالی فلسطین میں اپنے متعدد غاصبانہ منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے جن میں بیت المقدس کے پرانے ایئرپورٹ کی اراضی پر ایک صیہونی بستی کا قیام بھی شامل ہے، جبکہ غاصب صیہونی حکومت اسے عطروت ایئرپورٹ سے تعبیر کرتی ہے۔ یہ ایئرپورٹ قلندیا کیمپ کے قریب واقع ہے۔
اس منصوبے کے مطابق اس علاقے میں غاصب صیہونی حکومت نو ہزار رہائشی مکانات بنانا چاہتی ہے جن میں بیشتر کو حریدیمیوں کے حوالے کیا جائے گا۔ حریدیم مکتب کا پیروکار یہ فرقہ، انتہائی خطرناک افکار و نظریات کا حامل ہے اور اس فرقے کی آبادی بیس لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔
یہ منصوبہ گذشتہ سال بھی پیش کیا گیا تھا مگر نقشہ تیار کئے جانے کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا تھا تاہم گذشتہ ہفتے نتن یاہو اور ان کی پارٹی کے کارکنوں نے اس منصوبے کو پھر آگے بڑھایا ہے اور طے پایا ہے کہ اس بستی کو قائم کیا جائے گا اور اسی غرض سے اس علاقے کا انھوں نے جائزہ بھی لیا ہے۔

ٹیگس