غزہ سے آئی چونکا دینے والی افسوسناک خبر! 2025 میں ہوئے 48 ہزار 5 سو بچے پیدا، لیکن سیکڑوں بچوں کی ہو گئی موت، وجہ حیران کر دینے والی!
دوہزار پچیس کے دوران غزہ پٹی میں بچوں کی قبل از وقت پیدائش، جسمانی معذوریت یا غیر معمولی وزن کے حامل بچوں کے سلسلے میں چونکا دینے والے اعدادوشمار سامنے آئے ہیں۔
سحرنیوز/عالم اسلام: فلسطین کی شہاب نیوز ایجنسی نے غزہ کی وزارت صحت کے محکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر " زاھر الوحیدی" حوالے سے بتایا ہے کہ دوہزار پچیس کے دوران غزہ پٹی میں قبل از وقت بچوں کی پیدائش، جسمانی معذوریت اور غیر معمولی وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد حیران کن ہے۔ الوحیدی نے کہا کہ دو ہزار پچیس میں اڑتالیس ہزار پانچ سو بچے پیدا ہوئے جن میں سے چار ہزار نو سو بچوں کا وزن غیر معمولی تھا جبکہ چار ہزار بچے از وقت پیدا ہوئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مذکورہ عہدے دار نے کہا کہ ہمارے پاس تین سو پندرہ ایسے بچوں کا ریکارڈ ہے کہ جو پیدائشی طور پر دل اور مثانے جیسے اعضاء میں نقص اور معذوریت سے دوچار تھے- الوحیدی کے مطابق گزشتہ برس غزہ کے ہسپتالوں میں چھ ہزار چھ سو مردہ بچوں کی پیدائش ہوئی جب کہ حمل کے چوبیسویں ہفتے سے پہلے حمل کے ضائع ہوجانے کے پانچ ہزار کیسز ریکارڈ کیے گئے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پیدائش کے بعد پہلے ہی ہفتے میں چار سو پچاس بچے مختلف بیماریوں کی وجہ سے زندہ نہ رہ سکے۔
وزارت صحت کے عہدے دار کے مطابق پیدائشی نقائص اور قبل از وقت پیدائش میں اضافہ، عام شرح پیدائش کے مقابلے ساٹھ فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی خواتین کو غذائی قلت اور قحط کے علاوہ دھویں اور بارود سے متاثر فضا میں سانس لینا پڑتا ہے جس کا براہ راست اثر جنین کی صحت پر بھی پڑتا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی آنروا نے غزہ پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے پانی کے شدید بحران پر خبردار کرتے ہوئے پینے کے صاف پانی تک رسائی کو روزمرہ کا چیلنج قرار دیا ہے جس سے ہزاروں شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
انروا کے مطابق پرہجوم بستیوں میں پناہ گزینوں کو درکار پانی، بنیادی طور پر تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور آبی وسائل کی شدید قلت کی وجہ سے ٹینکروں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے، مگر محفوظ اور صاف پانی تک رسائی، انسانی جانوں کی بقا کے لیے ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ انروا نے صورتحال کوغزہ کے باشندوں خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور بیماروں کے لیے خطرناک قرار دیا- امریکہ کی حمایت سے غزہ کی پٹی کے خلاف صیہونی جارحیت نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے علاوہ بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے جس کے سبب غزہ پٹی کا نوے فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے غزہ کی تعمیر نو پر تقریباً ستر ارب ڈالر کی لاگت کا تخمینہ لگایا ہے۔