صیہونی حکومت کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی وزیر اعظم کے داخلے پر پابندی
Sep ۱۹, ۲۰۱۵ ۰۸:۰۷ Asia/Tehran
-
فلسطین کے وزیر اعظم رامی حمداللہ
صیہونی حکومت کے فوجیوں نے فلسطین کے وزیر اعظم رامی حمداللہ کو مقبوضہ بیت المقدس میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
فلسطین کی قومی اتحاد کی حکومت کے وزیر اعظم کے تعلقات عامہ کے دفتر نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ وزیر اعظم رامی حمداللہ اور فلسطین کی خفیہ تنظیم کے سربراہ ماجد فرح، محدود خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے قومی سلامتی ادارے کے سربراہ زیاد ہب الریح کے ساتھ مقبوضہ بیت المقدس میں داخل ہونا چاہتے تھے لیکن صیہونی فوجیوں نے ان کو داخل نہیں ہونے دیا-بیان میں رامی حمداللہ اور فلسطین کے دیگر اعلی حکام کے مقبوضہ بیت المقدس کے دورے کا مقصد، فلسطینیوں کی حمایت، مسجدالاقصی کی زیارت، صیہونی فوجیوں کے حالیہ حملوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور اس مقدس مقام اور فلسطینی نمازیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا اندازہ لگانا بتایا گیا ہے-
ایسے وقت میں کہ مقبوضہ بیت المقدس میں تشدد اور لڑائی میں شدت کی وجہ سے حالات کشیدہ ہیں بڑی تعداد میں غاصب اسرائیلی فوجیوں کو جمعہ کے روز اس شہر میں، خاص طور سے شہر کے قدیم علاقوں اور مسجدالاقصی کے اطراف میں، تعینات کردیا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ غاصب اسرائیلی فوجیوں نے گزشتہ اتوار کی صبح مسجدالاقصی پر حملہ کیا تھا جو صیہونی فوجیوں اور فلسطینی نمازیوں کے درمیان جھڑپ کا سبب بنا- اس حملے اور جھڑپ میں دسیوں افراد زخمی ہوگئے تھے- مسجدالاقصی پر اسرائیلی فوجیوں کے حملے اور فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ ان کی جھڑپوں کا سلسلہ اتوار سے مسلسل جاری ہے۔