بحرین میں برطانوی فوجی اڈے کے قیام کی مخالفت
-
بحرین میں برطانوی فوجی اڈے کے قیام کی مخالفت
بحرین میں برطانوی فوجی اڈے کے قیام کے منصوبے کی بحرین کے مختلف حلقوں کی جانب سے شدید مخالفت کا اظہار کیا جارہاہے-
بحرین میں برطانوی فوجی اڈے کےقیام کے خلاف بحرینی عوام بھی احتجاج کرچکے ہیں جبکہ بحرین کےسابق رکن پارلیمنٹ جلال فیروز نے کہا ہےکہ فوجی اڈے کے قیام کی اجازت دے کر آل خلیفہ حکومت نے برطانوی حکومت کو رشوت دی ہے -
بحرین کے سابق رکن پارلیمنٹ نے پریس ٹی وی سے اپنی گفتگو میں کہا ہے کہ برطانوی حکومت بحرین میں آل خلیفہ کو ہی مسند اقتدار میں باقی رکھنا چاہتی ہے- ان کا کہنا تھا کہ آل خلیفہ نے برطانیہ کو منامہ کے قریب مینا بندرگاہ میں فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت دے کر اسے اس بات کا صلہ دیا ہے کہ اس نے بحرینی حکومت کے ذریعے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں اورسیاسی مخالفین کو کچلنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا -
انہوں نے برطانوی وزیرخارجہ فلیپ ہیمنڈ کے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ لندن بحرین میں اپنے نئے فوجی اڈے میں دوبحری بیڑے تعینات کرے گا تاکہ وہ اس ملک میں امن و استحکام کو تقویت پہنچائیں، کہا کہ برطانوی وزیرخارجہ کا یہ دعوی ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یہ فوجی اڈہ، خلیج فارس میں برطانیہ کے اتحادیوں کے ساتھ، فوجی تعاون کے مواقع زیادہ سے زیادہ فراہم کرے گا اور اس کا نتیجہ عدم استحکام اور عوام میں ناراضگی کے سوا اور کچھ نہیں نکلے گا -
بحرین کے سابق رکن پارلیمنٹ جلال فیروز نے سعودی عرب، قطر اور بحرین کو شام میں سرگرم دہشت گردوں کا سب سے بڑا حامی قراردیا اور کہا کہ دہشت گردوں کے لئے ان ملکوں کی جانب سے بڑےپیمانے پر مالی حمایت کا راز پوری طرح فاش ہوجانے کے بعد بھی برطانیہ اپنے اقتصادی اور فوجی مفادات کی خاطر ان حقائق سے آنکھیں چرا رہاہے -
انہوں نے اخلاقی اصولوں کی پابندی کے تعلق سے برطانیہ کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھولتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس میں برطانیہ کے بحری فوجی اڈے کی موجودگی عوامی تحریک کے مقابلے میں آل خلیفہ حکومت کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہے -
واضح رہے کہ منامہ کے قریب مینا بندرگاہ میں برطانیہ کے بحری فوجی اڈے کے قیام کا کام برطانوی وزیرخارجہ فلیپ ہیمنڈ کی موجودگی میں شروع ہوچکا ہے-اس فوجی اڈے کے قیام پر پندرہ ملین پونڈ کا خرچ آئے گا اور یہ پورا خرچ آل خلیفہ حکومت برداشت کرے گی-