Nov ۰۷, ۲۰۱۹ ۱۸:۳۶ Asia/Tehran
  • رہبر کمیٹی نے دھرنا اور مارچ جاری رکھنے اور حکومت پر دباؤ بڑھادینے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان میں آزادی مارچ اور دھرنے کے لئے بنائی جانے والی اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے دھرنا اور مارچ جاری رکھنے اور حکومت پر دباؤ بڑھادینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آزادی مارچ اور دھرنے کے تعلق سے حزب اختلاف کی جماعتوں کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ وہ رہبر کمیٹی کے فیصلے سے ہٹ کے کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے ۔انھوں نے کہا کہ آزادی مارچ اور دھرنے کے بارے میں ہر فیصلہ رہبر کمیٹی کرے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی سے باہر اس تعلق سے کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ آزادی مارچ کے لئے قائم کی جانے والی اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ آزادی مارچ دو دن میں نیا رخ اختیار کرلےگا۔اسی کے ساتھ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار نے کہا ہے کہ چاہے مہینہ لگ جائے لیکن وہ اور پارٹی کے کارکن اپنے قائدین کے حکم پر یہاں بیٹھے رہیں گے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے بھی اعلان کیا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔اس سے پہلے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب میں کہا تھا کہ حکومت کو مزید وقت نہیں دیا جاسکتا۔انھوں نے کہا تھا کہ ملک کو بچانے کے لئے بقول ان کے موجودہ حکمرانوں کو ہٹانا ہی ہوگا اور انھیں اقتدار میں رہنے کے لئے مزید وقت نہیں دیا جاسکتا ۔

دوسری جانب جمعیت علمائےاسلام ف کے ایک رہنما مفتی کفایت اللہ نے دھمکی دی ہے کہ مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج ملک بھر میں پھیل سکتا ہے۔’جیو نیوز‘ کے مارننگ شو ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ احتجاج کو ملک بھر میں پھیلانے کے لئے ان کے سامنے مختلف راستے موجود ہیں۔

ادھر جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ سینیٹر سراج الحق نے گوجرانوالا میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد میں دھرنے کی صورت میں بہت بڑا مجمع موجود ہے ۔ انھوں نے نو نومبر کو کرتار پور راہداری کے افتتاح کے پروگرام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کون جانتا ہے کہ نو نومبر تک حکومت باقی رہے گی یا نہیں ؟ان کا کہنا تھا کہ ملک ایسے معاشی بحران سے دوچار ہے کہ حکمرانوں کو ووٹ دینے، ان کی حمایت کرنے اور انہیں اقتدار تک پہنچانے والے بھی پریشان ہیں ۔

 

 

ٹیگس