Dec ۱۷, ۲۰۱۹ ۱۸:۰۵ Asia/Tehran
  • پرویزمشرف کے خلاف عدالتی فیصلے پر فوج کا ردعمل

پاکستان کے سابق صدر اور سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو سزائے موت سنائے جانے کی عدالتی فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، اپوزیشن کی جماعتوں نے فیصلے کا خیر مقدم کیا تو فوج کی جانب سے اس پر غم وغصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کیا ہے کہ پرویزمشرف سے متعلق عدالتی فیصلے پر افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب پایا جاتا ہے۔
ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف آرمی چیف، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی اور صدر مملکت رہے اور انہوں نے چالیس سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی ہے۔
ادھر اطلاعات ہیں کہ پاکستان فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر میں اعلی سطح کا فوجی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں سابق آرمی چیف ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
پاکستانی وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے تاہم کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کے قانونی، سیاسی اور قومی مفادات سے جڑے اثرات کا جائزہ لینے کے بعد حکومتی بیانیہ جاری کیا جائے گا۔
پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے سابق صدر اور سابق آرمی چیف کے خلاف عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسا فیصلہ پچاس سال قبل کیا جاتا تو آج ملک کی صورتحال مختلف ہوتی۔
مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما احسن اقبال نے مقامی اخبار سے بات چیت میں پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کے فیصلے پر اپنا رد عمل  ظاہر کرتے ہوئے اس فیصلے کو ملک میں آئین و قانون کی بالادستی قرار دیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ کاش ایسا فیصلہ پـچاس سال پہلے آتا تو ملک بہت سارے مارشل لا سے بچ جاتا اور مشرقی پاکستان ہم سے الگ نہ ہوتا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں سابق صدر اور سابق آرمی چیف کے خلاف عدالتی فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔
پاکستان کے صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ سابق صدر اور سابق آرمی چیف کے خلاف عدالتی فیصلے کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔

اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ عدالتی فیصلے سے پرویز مشرف کو کوئی سزا نہیں ہوگی کیوں کہ وہ اس وقت ملک سے باہر ہیں، تاہم یہ بات اپنی جگہ تاریخی ہے کہ عدالت نے انہیں سزا سنادی جس سے مستقبل میں کسی کی جانب سے بھی آئین و قانون کو معطل کرنے یا اس میں مداخلت کرنے سے روکا جاسکے گا۔
اسلام آباد کی خصوصی عدالت کی تین رکنی بینچ نے سترہ دسمبر کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل چھے کے تحت سزائے موت دینے کا حکم دیا۔
دبئی میں مقیم پاکستان کے سابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اپنے خلاف عدالتی فیصلے کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس