Apr ۱۶, ۲۰۲۲ ۱۸:۱۰ Asia/Tehran
  • پنجاب اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کے دوران حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب

پنجاب اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس کے باوجود حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں تشدد، گرفتاریوں، ہنگامہ آرائی کے باوجود حمزہ شہباز 197 ووٹ لے کر پنجاب کے 21 ویں وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے۔ وزیر اعلی کا چناو یکطرفہ تھا اس لئے کہ تحریک انصاف اور ق لیگ نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے آج صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی، حکومتی ارکان نے ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری پر حملہ کرکے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد پولیس نے ایوان میں داخل ہوکر تشدد میں ملوث ارکان کو گرفتار کرلیا۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کی زیر صدارت جونہی شروع ہوا تو مسلم لیگ ق اور پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی نے ایوان میں رنگین لوٹے لہرائے اور شور شرابا کیا اور پھر اسپیکر کی ڈائس کو گھیرے میں لیا اور ڈپٹی اسپیکر پر لوٹے بھی اچھالے گئے تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں بہ حفاظت اسمبلی ہال سے باہر نکالا اور ایوان ’لوٹے لوٹے‘ کے نعروں سے گونج اُٹھا ۔ اس کے علاوہ پاکستان میں امریکہ کے بارے میں نفرت کی جو فضا قائم ہے اس کی ایک جھلک آج پنجاب اسمبلی میں بھی دکھائی دی اورپنجاب اسمبلی میں امریکہ کے خلاف نفرت کے اظہار کے طور پراراکین اسمبلی نے امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کے فلک شگاف نعرے لگائے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے لوٹے لوٹے کے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ ہمارے لوٹے ہمیں واپس دو۔

اس قسم کی ہنگامہ آرائی کے بعد اجلاس کی کارروائی روک دی گئی ہے۔ تاہم پھرجب تقریبا 5 گھنٹے کی تاخیر کے بعد جب اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ایک مرتبہ پھر ہنگامے شروع ہوئے اور مرتبہ مسلم لیگ ن کے اراکین نے تحریک انصاف اور ق لیگ کے اراکین پر حملہ کیا جس کے دوران وزارت اعلیٰ کے امیدوار چودھری پرویز الٰہی زخمی ہوگئے، ریسکیو اہلکاروں نے پرویز الہٰی کو طبی امداد دی۔

ٹیگس