پاکستان: حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات
اطلاعات کے مطابق حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور تین گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا، اجلاس کے لیے پہلے 2 اور پھر 3 بجے کا وقت رکھا گیا تھا۔
سحرنیوز/پاکستان: اسلام آباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی صدارت میں یہ مذاکرات ہو رہے ہیں، حکومتی وفد میں محسن نقوی، امیر مقام، طلال چوہدری اور رانا ثنا اللہ شامل ہیں جبکہ نوید قمر، شیری رحمان اور اعجاز جاکھرانی بھی حکومتی وفد کا حصہ ہیں۔
اپوزیشن ٹیم میں علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سلمان اکرم، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شامل ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے مذاکرات کے آغاز پر کہا کہ کل کا اجلاس بہت خوشگوار ماحول میں ہوا، آج بھی امید ہے کہ تمام فریق خوشگوار ماحول میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔
سردار ایاز صادق نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن اراکین کا شکریہ ادا کیا۔
تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہم سیاسی مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں، یہ مذاکرات بہت اہم ہیں، تحریک انصاف ہمیشہ مذاکرات پر یقین رکھتی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا لانگ مارچ بھی ہو، جمہوریت کے لیے بات چیت ہونی چاہیے، لانگ مارچ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ ایمرجنسی اور گورنر راج نہ لگے، چیزیں بہتری کی طرف جائیں، کوئی انتہائی قدم نہیں چاہتے، چاہے وہ ایمرجنسی ہو یا کوئی اور صورت۔
پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ معاملات جمہوری انداز میں حل ہوں، جمہوری طریقے سے معاملات حل ہوں تو بہتری ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کو جمہوری طریقہ کار ہی اختیار کرنا چاہیے، پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوری طریقہ کار کو اہمیت دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی پوزیشن پر ہر کوئی بات کر سکتا ہے، مذاکرات کے حوالے سے ابھی کوئی بات نہیں کر سکتی، مذاکرات ہو رہے ہیں، ٹیم جو فیصلہ کرے گی ہم وہی کریں گے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel