یمنی گروہوں کے درمیان امن مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم
-
یمنی گروہوں کے درمیان امن مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم
یمنی گروہوں کے درمیان امن مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔
خبروں میں کہا گیا ہے کہ یمنی گروہوں کے درمیان سوئٹزر لینڈ میں پانچ روز سے جاری امن مذاکرات سعودی عرب کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کے باعث تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔
سعودی حکومت نے دعوی کیا ہے کہ یمن کے امن مذاکرات قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر ناکام ہو گئے ہیں۔
یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے نمائندہ وفد نے اقوام متحدہ کے نام احتجاجی مراسلے میں جنگ بندی کے نفاذ میں عالمی ادارے کی ناکامی پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امن مذاکرات میں انصار اللہ کی شرکت کا اہم ترین مقصد جنگ بندی کا نفاذ اور عوام تک انسان دوستانہ امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔
ایسا خیال کیا جارہا ہےکہ یمن کی سابق حکومت کے حامی اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کی حمایت حاصل کر کے مسقط اجلاس کی ساتویں شق پر عملدرآمد میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
قابل ذکرہے کہ سوئٹزرلینڈ میں پانچ روز تک جاری رہنے والے امن مذاکرات میں یمنی گروہوں اور سعودی عرب کے علاوہ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل ولدالشیخ احمد شریک تھے۔
سعودی عرب نے امریکہ اور اپنے علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ سے یمن پر جارحیت کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد یمن کے مفرور سابق صدر منصور ہادی کی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانا تھا۔