Jun ۰۷, ۲۰۱۸ ۱۴:۴۷ Asia/Tehran
  • تجارتی جنگ میں امریکہ کے خلاف یورپ کا جوابی حملہ

یورپی یونین نے امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی جنگ میں جوابی حملوں کا آغاز کرتے ہوئے متعدد امریکی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کر دیا ہے۔

یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ یورپی یونین نے امریکہ کی جانب سے اسٹیل اور المونیئم کی درآمد پر عائد کی جانے والی ڈیوٹی کے جواب میں متعدد امریکی منصوعات پر ایسے ہی ٹیکس عائد کردیئے ہیں اور یکم جولائی سے اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
یورپی کمیشن کے ایک عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ امریکی مصنوعات پر عائد کیے جانے والے نئے ٹیکسوں کے بارے میں یورپی ملکوں کے درمیان ہم آہنگی کا عمل رواں ماہ کے اختتام سے پہلے مکمل ہو جانے کی توقع ہے تاکہ یکم جولائی سے اس پر عمل شروع کیا جا سکے۔
ادھر جرمن پارلیمنٹ میں بائیں بازو کی جماعتوں کے اتحاد نے ملک کی چانسلر انجیلا مرکل اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ کی شروع کردہ تجارتی جنگ نیز ایران کے خلاف عائد کی جانے والی ایسی امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس اور جوابی اقدامات کرے کہ جن سے یورپی کمپنیوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
دوسری جانب میکسیکو نے بھی امریکہ کی جانب سے المونیم اور اسٹیل کی درآمد پر عائد کی جانے والی ڈیوٹی کے خلاف عالمی تجارتی تنظیم میں کیس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
درایں اثنا عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اس کے اہم ترین تجارتی شرکا کے درمیان تجارتی کشیدگی کے نتائج سن دو ہزار آٹھ کے عالمی مالیاتی بحران سے زیادہ خطرناک ہوں گے۔

عالمی بینک نے تجارتی جنگ کو صدر ٹرمپ کی قوم پرستانہ تجارتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
امریکہ کے اندر بھی بعض سینیٹروں کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ٹریڈ ٹیرف کی مخالفت میں شدت پیدا ہو گئی ہے اور اس کے خلاف ایک بل کانگریس میں لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
بل کے تحت صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے بارے میں ایوان میں رائے شماری کرائی جائے گی کہ اسٹیل اور المونیئم کی درآمدات کی موجودہ صورت حال قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ریپبلکن سینیٹر باب کورکر نے اس بل کے بارے میں دوسرے سینیٹروں کی حمایت حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے۔
اسی دوران امریکی وزیر خزانہ اسٹیو مینوشین نے صدر ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اسٹیل اور المونیئم کی درآمدات کے نئے ٹیرف سے کینیڈا کو چھوٹ دینے کا فرمان جاری کریں۔

ٹیگس