Apr ۲۶, ۲۰۲۰ ۲۱:۵۰ Asia/Tehran
  • امریکہ میں کورونا کا قہر اور ٹرمپ کے احمقانہ مشورے

امریکہ میں پچھلے چوبیس کے گھنٹے کے دوران مزید دو ہزار سات سو سے زائد افراد کورونا سے ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد اس ملک میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد چوّن ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

جان ہوپکنز یونیورسٹی کے جاری کردہ تازہ اعداد وشمار کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹے کے دوران کورونا وائرس نے مزید دوہزار سات سو تہتر افراد کی جان لے لی جس کے بعد ملک میں کورونا سے مرنے والوں کی کل تعداد چوّن ہزار دو سو پینسٹھ ہوگئی ہے۔
امریکہ میں کورونا وائرس کے مریضوں میں بھی تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور یہ تعداد اب دس لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے۔ 
جان ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد وشمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی کل تعداد بڑھ کر نو لاکھ ساٹھ ہزار آٹھ سو چھیانوے ہو گئی جو دنیا کے کسی بھی ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ 
نیویارک دولاکھ اٹھاسی ہزار تین سو تیرہ کورونا کے مریضوں اور اکیس ہزار نو سو آٹھ اموات کے ساتھ امریکہ میں کورونا وائرس کا مرکز بنا ہوا ہے۔
نیویارک کے بعد نیوجرسی اور میساچوسٹس کا نمبر ہے آتا ہے جہاں بالترتیب ایک لاکھ پانچ ہزار پانچ سو تئیس اور ترپن ہزار تین سو اڑتالیس افراد کورونا وائرس میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ مذکورہ ریاستوں میں کورونا وائرس سے بالترتیب پانچ ہزار آٹھ سو تریسٹھ اور دوہزار سات سو تیس اموات ہو چکی ہیں۔
اسی دوران اطلاعات ہیں کہ نیویارک میں طبی وسا‏ئل کی قلت اور بنیادی ڈھانچے کی کمی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکام نے مختلف میڈیکل اسٹورز میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ انجام دینے کا حکم دیا ہے۔ 
نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو نے کہا ہے کہ بعض میڈیکل اسٹورز کو اس بات کی اجازت دی جا رہی ہے کہ وہ اپنے ہاں کورونا وائرس کے ٹیسٹ انجام دے سکتے ہیں۔ 
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا کے علاج کے لیے مریضوں کو کیڑے مار دواؤں کے انجکشن لگانے سے متعلق اپنے متنازعہ بیان پر کی جانے والے شدید تنقیدوں کے بعد روزانہ کی پریس کانفرنس منسوخ کر دی ہے۔
 ٹرمپ نے وائٹ ہاؤ‎س میں اپنی روزانہ پریس کانفرنس منسوخ کرنے کا اعلان ایک ٹوئیٹ کے ذریعے ہے۔ 
یہ پریس کانفرنس پچھلے دو ماہ سے تقریبا ہر روز ہوا کرتی تھی جس میں صدر ٹرمپ کورونا وائرس کے انسداد کے بارے میں اپنی اور اپنی حکومت کی کار کردگی بیان کرتے تھے۔ 
ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ذرائع ابلاغ عامہ مخاصمانہ سوالات کے سوا کوئی اور بات نہیں پوچھتے، ایسی صورتحال میں وائٹ ہاؤس میں کسی پریس کانفرنس کا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر نے گزشتہ جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں روزانہ کی پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ، کیڑے مار دوا ایک منٹ کے اندر کورونا وائرس کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔صرف ایک منٹ میں! ایک راستہ یہ ہے کہ ہم اسے جسم میں انجیکٹ کریں یا اس سے اپنے لنگز کو دھونے کی کوشش کریں، یہ بڑا ہی دلچسپ تجربہ ہوگا۔"
ٹرمپ کے اس بیان کے فورا بعد امریکی وزارت صحت کے عہدیداروں اور ڈاکٹروں نے اسے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ٹرمپ کے مشورے پر ہرگز عمل نہ کریں۔ 
امریکی وزارت صحت اور ڈاکٹروں کی اس اپیل کے باوجود محکمہ کنٹرول برائے زہر خورانی نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح نو بجے سے لیکر جمعے کی سہ پہر تین بجے تک تیس ایسے افراد کو اسپتال لایا گیا ہے جنہوں نے ٹرمپ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کیڑے مار دواؤں کا استعمال کیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹرمپ کے مشورے پر عمل کرنے والے ایک ساٹھ سالہ شخص کے موت سے ہمکنار ہوجانے کی بھی خبر ہے۔ 

ٹیگس