Jun ۲۲, ۲۰۲۰ ۲۰:۱۴ Asia/Tehran
  • امریکہ میں نسل پرستی، تشدد اور اسکے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری

امریکا میں نسل پرستی، ریاستی دہشت گردی اور تشدد کے خلاف عوام کے مظاہروں اور مظاہرین کے ساتھ پولیس کے تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی کے ساتھ مختلف امریکی شہروں میں فائرنگ کے متعدد واقعات میں کچھ لوگوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی خبر ہے۔

سی این این کے مطابق سیکڑوں امریکی شہریوں نے لاس اینجلس میں پولیس کے ہاتھوں لاتینی نژاد امریکی نوجوان کے قتل کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے نسل پرستی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے، بے گناہ نوجوان کے قاتل کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

اٹھارہ جون کو لاس اینجلس میں ایک سپر مارکیٹ میں سیکورٹی گارڈ کی حیثیت سے کام کرنے والے آندرے گاردادو کو شہر کے ڈپٹی پولیس چیف نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ لاس اینجلس سے ڈیموکریٹ رکن پارلیمنٹ میکسین واٹرز اور نینٹ دیاز بیراگان نے ایک بیان جاری کر کے، ریاستی محکمہ قانون سے، لاتینی نژاد نوجوان کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ریاست لاس اینجلس کے مرکزی شہر آسٹن میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ ہفتے کے روز ریاست نیویارک میں بھی فائرنگ کا ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس میں نو افراد زخمی ہو گئے تھے۔

درایں اثنا ریاست مینے سوٹا کے شہر منیاپولس کے حکام نے بتایا ہے کہ اتوار کے روز شہر میں ہونے والی فائرنگ میں ایک شخص ہلاک اور گیارہ زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام شہری کے قتل کے خلاف منیاپولس سے شروع ہونے والے مظاہروں کا دائرہ دنیا کے دیگر ملکوں اور شہروں تک بھی پھیل گیا ہے۔

اسی دوران ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر کامیلا ہیرس نے نسل پرستی کے خلاف مظاہروں میں شدت کے باوجود صدر ٹرمپ کی جانب سے الیکشن کیمپین کے آغاز پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ سینیٹر کامیلا ہیرس نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ریاست اوکلاھوما کے شہر تلسا کے دورے میں درجنوں سیاہ فام شہریوں کے پرانے زخموں کو تازہ کر دیا ہے۔ کامیلا ہیرس نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ ملک کی سیاہ فام برادری کو صدیوں سے نا انصافیوں کا سامنا ہے اور انہیں قانون کے مطابق انصاف فراہم نہیں کیا جاتا۔

قابل ذکر ہے کہ تلسا سٹی میں ٹرمپ کے پہلے انتخابی جلسے میں شریک لوگوں نے ٹرمپ کے لیے زیادہ گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا جبکہ اس کے تھوڑی دیر بعد ان کے اصلی رقیب جوبائیڈن نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باوجود انتخابی جلسہ کرنے پر ٹرمپ کی سرزنش کی۔

یہاں اس بات کی یاد دھانی ضروری ہے کہ تلسا قتل عام جو بلیک وال اسٹریٹ کے نام سے مشہور ہے، امریکی تاریخ میں سیاہ فاموں کا بدترین قتل عام شمار ہوتا ہے۔ انیس سو اکیس میں سفید فام غنڈوں کے ایک گروپ نے شہر تلسا کے علاقے گرین ووڈ پر حملہ کر دیا تھا۔ امریکی ریڈ کراس نے اگر چہ اس قتل عام کے صحیح اعداد و شمار اب تک جاری نہیں کیے ہیں تاہم سن دو ہزار ایک میں ریاستی کمیشن کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، اس ہولناک واقعے میں کم از کم تین سو سیاہ فاموں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

ٹیگس

کمنٹس