روس اور یوکرین کے درمیان شدید جنگ، سیکڑوں فوجیوں نے ہتھار ڈال دیئے
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ چوتھے روز بھی جارہی ہے اس درمیان روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ خارکیف سٹی میں سیکڑوں یوکرینی فوجیوں نے ہتھار ڈال دیئے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کی صبح مزید روسی فوجی یوکرین کے شہر خارکیف میں داخل ہوگئے ہیں۔
روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشنکوف نے اتوار کے روز ماسکو میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ پچھلے چار روز کے دوران یوکرینی فوج کے 275 سے زائد مراکز کو تباہ کردیا گیا ہے۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ مشرقی یوکرین کے شہر خارکیف میں شدید لڑائیاں ہورہی ہیں اور 470 یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو روسی فوج کے حوالے کردیا ہے۔ روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے مزید کہا کہ صوبہ خارکیف میں یوکرینی فوج کےمیزائیل رجمنٹ نے خود کو روسی فوج کے حوالے کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یوکرین کے دو شہر خرسون اور بردیانسک ہمارے محاصرے میں ہیں جبکہ گن جفسک اور چرو بائیوفکا کے ہوائی اڈے روسی فضائیہ کے کنٹرول میں آگئے ہیں۔
روسی وزارت دفاع کے ترجمان کوناشنکوف نے یہ بات زور دے کر کہی کہ روسی فوجیں رہائشی علاقوں کو نشانہ نہیں بنا رہی ہیں اور عام شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے لازمی تدابیر سے کام لیا جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمہوریہ دونیسک اور لوہانسک کی فوجیں بھی روسی فوج کی پشت پنائی میں پیشقدمی کر رہی ہیں۔ یوکرینی حکام نے روسی وزرات خارجہ کی جانب سے جاری کی جانے والی خبروں کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔
دوسری جانب جمہوریہ سلوواکیا کے وزیر دفاع نے 1200 غیر ملکی فوجیوں پر مشتمل نیٹو کے ایک دستے اور پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی اپنے ملک میں تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔ سلوواکیا، نیٹو کا رکن ملک ہے اور اسکی سرحدیں یوکرین سے ملتی ہیں تاہم ابھی تک اس ملک میں غیر ملکی فوجی تعینات نہیں ہیں۔
یوکرین کے خلاف روسی فوجی آپریشن کے بعد نیٹو نے اپنی مشرقی سرحدوں پر فوجی نقل و حرکت تیز کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ سلواکیا کے وزیر دفاع لوبومیر گاکو نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں تعینات کئے جانے والے پیٹریاٹ میزائل سسٹم جرمنی اور ہالینڈ کے کنٹرول میں رہیں گےادھر جرمن چانسلر نے اسٹنگر میزائیلوں سمیت متعدد طرح کے ہتھیار یوکرین بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔ اولاف شولز م نے اپنے ایک بیان میں کہا ہےکہ ان کا ملک 1000 اینٹی ٹینک میزائیل اور 500 اسٹنگر میزائیل یوکرین بھیج رہاہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جرمنی یہ ہتھیار ہالینڈ کے راستے یوکرین روانہ کرے گا۔