Mar ۰۹, ۲۰۲۲ ۱۶:۵۶ Asia/Tehran
  • روسی تیل کا بائیکاٹ اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے روس کے تیل کے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں سات فیصد کا اضافہ ہوگیا اور تیل کی قیمت بڑھ کر ایک سو تیس ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز روس سے تیل و گیس اور پتھر کے کوئلے کی درآمدات پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے اس اقدام کا مقصد روس پر دباؤ ڈالنا ہے۔

روس کے تیل کا بائیکاٹ کرنے کے بارے میں امریکی صدر جو بائیڈن کے اعلان کے بعد واشنگٹن میں روس کے سفارت خانے نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ روس کے توانائی کے ذرائع کیفیت کے اعتبار سے عالمی سطح پر اہم رقابت رکھتے ہیں اور امریکی صدر کی جانب سے روس کے توانائی کے وسائل پر پابندی لگائے جانے کے بعد روس اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔

امریکہ میں روس کے سفارت خانے نے تاکید کی ہے کہ وہ وقت آگیا ہے کہ امریکی فریق اپنے عزائم مسلط کرنے کے مقصد سے بائیکاٹ کا سہارا لے کر دوسروں کو قومی مفادات سے چشم پوشی کرنے پر مجبور کرنے کا حربہ استعمال کرنا بند کردے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایسی حالت میں روس کے تیل و گیس اور پتھر کے کوئلے کی درآمدات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے کہ اس فیصلے کے ساتھ ہی کیلی فورنیا میں پٹرول کی قیمت ہر گیلن پانچ اعشاریہ دو آٹھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے جبکہ شہر لاس انجیلس میں معمول کے پٹرول کی ہر گیلن کی قیمت پانچ اعشاریہ تین سات ڈالر ہو گئی ہے جبکہ گزشتہ ماہ یہ قیمت چار اعشاریہ چھے سات ڈالر اور گزشتہ سال تین اعشاریہ سات نو ڈالر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گیس کی برآمدات میں کمی کے ساتھ گیس کے بڑھتے ہوئے تقاضے اور یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کی بنا پر تیل و گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اور یہ قیمتیں امریکہ میں تیزی کے ساتھ بڑھی ہیں۔

اس سلسلے میں برطانیہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ روس کے خلاف امریکی پابندیوں کی حمایت میں رواں سال کے آخر تک روس سے تیل کی درآمدات بند کر دی جائیں گی ۔

برطانیہ کی جانب سے روس کے خلاف پابندی لگانے کا یہ اعلان ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ یہ ملک گیس کی چار فیصد ضرورت روس کے ذریعے ہی پوری کرتا ہے۔

اس سے قبل برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے نئے طریقے اختیار کرے گا۔

ادھر جاپان نے بھی کہا ہے کہ وہ گروپ سات میں اپنے شرکا کے ساتھ مل کر عالمی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا اور یوکرین کے خلاف جنگ کی بنا پر روس کی آئل مصنوعات کا بائیکاٹ کرے گا۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ یورپی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ بائیکاٹ کے عمل میں شامل نہیں ہوں گے ۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کے انچارج جوزف بورل نے اعلان کیا ہے کہ یورپی یونین امریکی صدر کے فیصلے پر عمل نہیں کرے گی۔

یورپی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق روس نے دو ہزار اکیس میں یورپ کے خام تیل کی ستائیس فیصد ضرورت کو پورا کیا ہے۔

دریں اثنا جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ روس سے تیل و گیس درآمد کئے بغیر توانائی کی ضرورت کو پورا نہیں کیا جا سکتا اور روسی تیل و گیس کے بائیکاٹ سے خود یورپ کے حالات ابتر ہوں گے۔

اگرچہ امریکہ کی جانب سے یہ سارے اقدامات روس پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے عمل میں لائے جا رہے ہیں مگر یہ اقدامات عالمی سطح پر تیل و گیس کی قیمتیں بڑھنے اور نتیجے میں خود عالمی برادری پر دباؤ بڑھنے کا باعث بنتے جا رہے ہیں جس کی بنا پر عالمی معیشت بحران کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ٹیگس