Mar ۲۶, ۲۰۲۴ ۱۸:۰۸ Asia/Tehran
  • سنگاپور کے قانون اور امور داخلہ کے وزیر
    سنگاپور کے قانون اور امور داخلہ کے وزیر

سنگاپور میں غاصب اسرائیلی حکومت کے سفارت خانے کی جانب سے فیس بک پر قرآن مجید کے حوالے سے ایک متنازعہ پوسٹ شائع کی گئی جس پر حکومت سنگاپور نے غاصب سفارت خانے کو پھٹکار لگائی اور اس کی سرزنش کی ہے۔

سحرنیوز/ دنیا: میڈیا ذرائع کے مطابق سنگاپور میں اسرائیلی سفارت خانے کی ایک شرارت کی وجہ سے سنگاپور کے قانون اور امور داخلہ کے وزیر نے غاصب اسرائیل کے سفارت خانے کو پھٹکار لگائی ہے۔ یہاں غاصب اسرائیلی حکومت کے سفارت خانے کی جانب سے فیس بک پر ایک متنازعہ پوسٹ شائع کی گئی جس میں قرآن پاک کا حوالہ دے کر سیاسی نکتہ اٹھانے کی کوشش کی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق اس پوسٹ میں اسرائیلی سفارت خانے نے لکھا تھا کہ "قرآن میں اسرائیل کا ذکر 43 بار آیا ہے جبکہ فلسطین کا ایک بار بھی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ آثار قدیمہ کے شواہد مثلاً نقشے، دستاویزات اور سکے ظاہر کرتے ہیں کہ یہودی لوگ اس سرزمین کے مقامی لوگ ہیں۔"

اسرائیلی سفارت خانے کی اس حرکت پر سنگاپور کی حکومت نے فوری ایکشن لیا اور غاصب صیہونی حکومت کے سفارت خانے کو فیس بک سے اس پوسٹ کو ہٹانے کا حکم دیا۔ سنگاپور کی حکومت کی ہدایت پر اسرائیلی سفارت خانے کو یہ پوسٹ ہٹانی پڑی۔ اتوار 25 مارچ کو یہ پوسٹ شائع کی گئی اور اسی دن ہٹا لی گئی۔

سنگاپور کے قانون اور امور داخلہ کے وزیر کے شانموگم نے اسے "تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی ایک حیران کن کوشش" قرار دیا اور کہا کہ یہ پوسٹ نامناسب اور مکمل طور پر ناقابل قبول ہے کیونکہ اس سے سنگاپور میں تحفظ، سلامتی اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

 

ٹیگس