ایران کے خلاف مہم جوئی کے بارے میں مختلف ممالک کا انتباہ
مختلف ممالک کے اعلی حکام نے ایران کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے علاقائی اور بین الاقوامی نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
سحرنیوز/دنیا: کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران پر کوئی بھی ممکنہ حملہ خطے میں شدید عدم استحکام کا باعث بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ روس امید کرتا ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور پرامن طریقوں سے مسائل کے حل پر توجہ دیں گے۔

مغربی ایشیا کے خطے میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی کانگریس کے ارکان نے ان اقدامات کے انرجی کی قیمتوں اور امریکی فوجیوں کی سلامتی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
فرانس کی مسلح افواج کے وزیر ایلس روفو نے اعلان کہا ہے کہ ایران میں فوجی مداخلت پیرس کے نقطہ نگاہ سے درست نہیں ہے۔
فرانسیسی عہدیدار نے تاکید کی کہ ایرانی عوام کی تقدیر کا فیصلہ خود ایرانیوں کو کرنا ہے اور ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ ان کے قائدین کا انتخاب کریں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ہرزہ سرائی پر سیاسی ماہرین اس قسم کے بیان بازی کو واشنگٹن کی نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیتے ہیں تا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو وائٹ ہاؤس کی زیادتیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔
ایران کے خلاف حملے کی دھمکیوں کے تناظر میں پاکستان ،ترکی ،سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے اسطرح کے اقدامات کی سخت مخالفت کی ہے۔

ایران کے خلاف ٹرمپ کی دھمکی آمیز بیان کے جواب میں مختلف مزاحمتی گروہوں نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی مہم جوئی سے پورے خطے کو آگ لگ جائے گی۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
ایران نے ہمیشہ کہا ہے کہ وہ دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ پرامن ماحول میں تعلقات چاہتا ہے لیکن اپنی سرزمین پر کسی بھی جارحیت کا دنداں شکن جواب دے گا۔
عسکری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی جارحیت کے علاقے پر سخت اثرات مرتب ہوں گے۔
ایران کے پاس خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے بارے میں درست معلومات ہیں اور وہ براہ راست جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے کی صلاحیت و توانائی رکھتا ہے۔

عسکری اور اسٹریٹجک امور کے ماہر علی حمیه نے تاکید کی ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس خطے میں امریکی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کے بارے میں درست معلومات ہیں اور وہ براہ راست جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے طاقت استعمال کرنے کی صلاحیت و توانائی رکھتا ہے۔
علی حمیه نے واضح کیا کہ ایران پر حملہ کرنے کی امریکی دھمکیاں تہران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی اور واشنگٹن کے سیاسی اور سیکورٹی مطالبات کے دائرے میں ہیں۔ امریکہ میڈیا وار اورفوجی کشیدگی میں اضافہ کر کے اپنے کم ہونے والے علاقائی اثر و رسوخ کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ ایسے میں ہے کہ امریکہ اس وقت سخت اندرونی بحران سے دوچار ہے۔ اسرائیل کے اندرونی حالات بھی اچھے نہیں ہیں اور سماجی اور سیاسی تقسیم بندی اور کشیدگی شدت اختیار کر رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل میں اندرونی کشیدگی ایران کی اندرونی صورتحال سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ ایران بحرانوں پراچھے طریقے سے قابو پاتا ہے اورکسی بھی فوجی کارروائی کے علاقائی نتائج قابو سے باہراور حالات تیزی سے خراب ہوں گے۔