ایران اور ٹرمپ کی بچکانہ سفارت کاری: روزنامہ گارڈین کا تبصرہ
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i454800-ایران_اور_ٹرمپ_کی_بچکانہ_سفارت_کاری_روزنامہ_گارڈین_کا_تبصرہ
برطانوی اخبار روزنامہ "گارڈین" نے ایران کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں اور اچانک انہیں واپس لینے کو "بچکانہ سفارت کاری" قرار دیا ہے۔
(last modified 2026-08-06T09:36:07+00:00 )
Aug ۰۶, ۲۰۲۶ ۱۳:۰۶ Asia/Tehran
  • ایران اور ٹرمپ کی بچکانہ سفارت کاری: روزنامہ گارڈین کا تبصرہ

برطانوی اخبار روزنامہ "گارڈین" نے ایران کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں اور اچانک انہیں واپس لینے کو "بچکانہ سفارت کاری" قرار دیا ہے۔

سحرنیوز/دنیا: روزنامہ گارڈین نے ایران کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کی بار بار کی دھمکیوں اور پھر اچانک انہیں واپس لینے کے اقدام کو "بچکانہ سفارت کاری" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے ایران کے خلاف جارحیت میں امریکی خارجہ پالیسی تعطل کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین میں مصطفیٰ بیومی کا ایک تجزیاتی مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ دھمکیوں اور پسپائی کے درمیان اور اختلافات کا شکار ٹیم کی موجودگی میں، یہ واضح ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اس جنگ کو ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، جسے شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔

مضمون نگار لکھتے ہیں کہ "جب سے امریکہ اور اسرائیلی حکومت نے ۲۸ فروری کو ایران کے خلاف جنگ شروع کی ہے، دنیا والوں نے ایران پر تباہ کن حملے کئے جانے کے سلسلے میں ٹرمپ کا متزلزل رویہ دیکھا ہے۔

شروعات 21 مارچ 2026 سے ہوئی جب ٹرمپ نے کہا "ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے ورنہ وہ اس کے بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے (جو کہ بذاتِ خود ایک جنگی جرم ہے)۔ ٹرمپ نے اس دھمکی پر عمل درآمد کو پانچ دن اور پھر مزید دس دن تک کے لئے ملتوی کر دیا، یہاں تک کہ اگلی دھمکی بھی سامنے آ گئی۔"

7 اپریل کو ٹرمپ نے دھمکی دی کہ "آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو جائے گی اور کبھی واپس نہیں آئے گی۔" صرف 10 گھنٹے بعد، وہ اس نسل کُشی پر مبنی دھمکی سے پیچھے ہٹ گئے۔

17 مئی کو امریکی صدر نے کہا کہ "ایران کے لیے وقت ختم ہو رہا ہے اور بہتر یہی ہے کہ وہ جلدی کریں، ورنہ ان کے درمیان کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔ وقت بہت اہم ہے!"

18 مئی کو ٹرمپ کہتے ہیں کہ "خلیج فارس کے رہنماؤں نے ان سے درخواست کی ہے کہ ایران کے خلاف اُس فوجی حملے کو شروع نہ کریں جو کل کے لیے طے کیا گیا تھا۔"

گارڈین کے مطابق، موجودہ طریقۂ کار جتنا اکتا دینے والا ہے، اتنا ہی بچکانہ بھی لگتا ہے کہ بار بار کوئی دھمکی دی جائے اور پھر فوراً، اپنی ساکھ بچانے کی شرمناک کوشش میں پسپائی اختیار کرلی جائے۔ اب اس پالیسی کا نام "بچکانہ سفارت کاری" کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے جو کہ حقیقت بھی ہے۔

ہمین فالو کریں:

Follow us: FacebookXinstagram, tiktok  whatsapp channel