76 فیصد امریکی یہودی ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش: تازہ سروے
https://urdu.sahartv.ir/news/world-i458606-76_فیصد_امریکی_یہودی_ٹرمپ_کی_کارکردگی_سے_ناخوش_تازہ_سروے
ایک تازہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا کے 76 فیصد یہودی اس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔
(last modified 2026-11-06T14:44:42+00:00 )
Nov ۰۶, ۲۰۲۶ ۱۸:۱۴ Asia/Tehran
  • 76 فیصد امریکی یہودی ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش: تازہ سروے

ایک تازہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا کے 76 فیصد یہودی اس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔

سحرنیو/دنیا: ارنا نے امریکی تنظیم "جے اسٹریٹ" کی ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکا میں کیے گئے ایک تازہ سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 76 فیصد یہودی رائے دہندگان ملک کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش ہیں جبکہ ان میں سے 72 فیصد نے کانگریس کے حالیہ انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدواروں کو ووٹ دیا ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق تنظیم "جے اسٹریٹ" کی جانب سے کرائے گئے سروے کے نتائج کے مطابق کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدواروں نے اس برادری کے 72 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ صرف 24 فیصد جواب دہندگان نے ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دیا۔

یہ سروے "جے بی اے او اسٹریٹجیز" نے 28 اکتوبر سے 3 نومبر 2026 تک 800 یہودی ووٹروں کی شرکت سے کیا۔ اس سروے میں اعلان کردہ غلطی کا تناسب 3.5 فیصد ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق 76 فیصد جواب دہندگان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش تھے جبکہ 74 فیصد نے کہا کہ وہ ان کی کارکردگی کے سخت مخالف ہیں۔

اس سروے کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ امریکا کے داخلی مسائل، صیہونی حکومت سے متعلق مسائل کے مقابلے میں، جواب دہندگان کی انتخابی ترجیحات میں زیادہ اہمیت رکھتے تھے۔ 44 فیصد شرکا نے امریکا میں جمہوریت کے مستقبل کو اپنے ووٹ پر اثر انداز ہونے والے دو اہم ترین موضوعات میں سے ایک قرار دیا جبکہ 34 فیصد نے زندگی کے اخراجات اور معاشی صورت حال کو اپنی اہم ترین تشویش بتایا۔

صرف 21 فیصد جواب دہندگان نے یہودی دشمنی کے مسئلے کو اپنے ووٹ پر اثر انداز ہونے والے موضوعات میں شامل کیا جبکہ صرف 14 فیصد کے نزدیک صیہونی حکومت سے متعلق مسائل اہمیت رکھتے تھے۔

اس سروے کے نتائج کے مطابق 80 فیصد شرکا کا خیال ہے کہ غزہ پٹی اور غرب اردن میں تل ابیب کے اقدامات امریکا میں یہودی دشمنی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

اس کے علاوہ 66 فیصد شرکا نے کہا کہ اس حکومت کے مخالف امیدواروں کے خلاف امریکا و اسرائیل تعلقات عامہ کمیٹی (آئیپک) کی انتخابی مہم پر خرچ کی جانے والی رقوم، امریکا میں یہودی دشمنی میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔

اس سروے کے نتائج سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ 76 فیصد شرکا غرب اردن میں آباد انتہا پسند صیہونی آبادکاروں پر پابندی عائد کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ اسی تناسب سے جواب دہندگان نے صیہونی حکومت کی کابینہ کے ان وزرا پر پابندی عائد کرنے کی بھی حمایت کی جو آبادکاروں کے تشدد کی حمایت کرتے ہیں۔

ہمیں فالو کریں:

Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok  whatsapp channel