Jun ۲۷, ۲۰۱۹ ۱۴:۴۰ Asia/Tehran
  • ایٹمی سمجھوتے کی بقا کے لئے سب کا ساتھ ضروری

اقوام متحدہ میں ایران کے دائمی مندوب نے خبردار کیا ہے کہ ایران اس کے بعد ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ کی ذمہ داری تنہا نہیں اٹھائے گا اور اسے تنہا یہ ذمہ داری اٹھانا بھی نہیں چاہئے-

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے بدھ کو ایٹمی سمجھوتے اور قرارداد بائیس اکتیس کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے باہر نکلنے اور ایران کے خلاف پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے باعث ایٹمی سمجھوتہ تقریبا پوری طرح غیرموثرہوچکا ہے-

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آٹھ مئی دوہزار اٹھارہ میں ایٹمی سمجھوتے سے باہر نکلنے کا اعلان کیا اور دعوی کیا کہ یہ سمجھوتہ مکمل نہیں ہے اور ایٹمی سمجھوتے میں ایران کی علاقائی موجودگی اور میزائلی مسائل کو بھی شامل کیا جائے-

ڈونالڈ ٹرمپ نے ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے باہر نکلنے کے بعد ملت ایران کے خلاف شدید ترین پابندیاں نافذ کردی  ہیں - ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ کے اس اقدام کو ملت ایران کے خلاف اقتصادی دہشتگردی قرار دیا ہے- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ملت ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو انسانیت کے خلاف جرائم سے تعبیر کیا ہے-

 امریکہ کا دعوی ہے کہ شدید ترین پابندیاں نافذ کر کے وہ ایران کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام کی تاکید ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کے تجربے کی بنیاد پر اب امریکہ سے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے-

 امریکہ نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کررکھی ہے اور ساتھ ہی دھمکی  بھی دے رہا ہے تاکہ بزعم خود ایران کو ڈرا دھمکا کر جدید مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کرے-

 جدید مذاکرات سے امریکہ کا مقصد ایران کی موثر علاقائی موجودگی اور میزائلی صلاحیت کا جائزہ لینا ہے - اس بیچ  ایٹمی سمجھوتے میں شامل یورپی ممالک بھی امریکہ کے ہمنوا ہوگئے ہیں- ان کی یہ ہمنوائی یورپ کی ناتوانی کی عکاس ہے اور اس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ یورپ بین الاقوامی نظام میں آزاد و خودمختار بازیگر نہیں ہے بلکہ امریکہ کے سہارے اپنا کردار ادا کرتا ہے-  اس صورت حال میں جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عدلیہ کے سربراہ ، اعلی حکام اور اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : مذاکرات کی پیشکش ، ملت ایران کے عناصر اقتدار کو کمزور کرنے اور اسے غیرمسلح کرنے کے لئے امریکہ کا فریب ہے-

ایٹمی سمجھوتے پر عمل درآمد میں یورپی ممالک کی ناتوانی ثابت ہونے اور ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار نہ ہونے کے بعد ایران نے ایٹمی سمجھوتے کے تناظر میں نئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں -

 آٹھ مئی دوہزارانیس میں امریکہ کے ایٹمی سمجھوتے سے یکطرفہ انخلا کو ایک سال مکمل ہونے اور یورپیوں کی وعدہ خلافیاں جاری رہنے کے بعد ایران نے ایٹمی سمجھوتے کے حوالے سے دو وعدوں پر عمل درآمد روک دیا اور ساتھ ہی ایٹمی سمجھوتے میں باقی ماندہ ممالک کو خاص طور سے تیل ، بینکنگ اور مالی لین دین کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے لئے ساٹھ روز کی مہلت دی - ایران کے اس اقدام کا مقصد ملت ایران کے مفادات کا دفاع اور ایٹمی سمجھوتے پرعمل درآمد میں توازن قائم کرنا ہے اوراہم نکتہ یہ ہے کہ ایران کے جدید اقدامات ، پوری طرح ایٹمی سمجھوتے کے مطابق ہیں-

ایران نے تاکید کی ہے کہ جب تک یورپ کی جانب سے وعدہ خلافیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اس وقت تک ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے کی بعض شقوں پرعمل درآمد کا سلسلہ بند رہے گا اور دوسرا قدم آٹھ جولائی دوہزار انیس میں ساٹھ روز کی مہلت ختم ہونے کے بعد اٹھایا جائے گا-

یورپ ، ایٹمی سمجھوتے کے تناظر میں ایران کے نئے اقدامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کی تخریبی پالیسیوں میں شامل ہوگیا ہے اور صرف ایران پر دباؤ ڈال رہا کہ وہ معاہدے پر پوری طرح عمل کرے- 

جیسا کہ ایران کے وزیرخارجہ جواد ظریف نے بدھ کو تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تاکید کی کہ : پروگرام کے مطابق ایران ، ایٹمی سمجھوتے پر مکمل عمل درآمد کا سلسلہ روکے رکھے گا اور ایٹمی سمجھوتے کے دیگر فریق اپنے وعدوں پر عمل درآمد کر کے ایران کو مکمل عمل درآمد کی جانب موڑ سکتے ہیں-

ایران نے ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے نکلنے کے بعد صبراور نیک نیتی کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کی بھرپور کوشش کی ہے- ایٹمی سمجھوتہ چند جانبہ ہے اور اسے یکطرفہ طور پرنہیں بچایا جا سکتا اوراس کی بقاء کا واحد راستہ یورپ کا عملی اقدام اور تمام فریقوں کی ہمراہی ہے-

ٹیگس

کمنٹس