Sep ۰۸, ۲۰۱۹ ۱۸:۵۹ Asia/Tehran
  • ایران تکنیکی شعبے میں ایٹمی معاہدے کے وعدوں میں کمی کے آخری مرحلے میں داخل

اسلامی جمہوریہ ایران نے سات جولائی کو ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے لئے یورپی ملکوں کو دی گئی اپنی ساٹھ روزہ مہلت ختم ہوجانے کے بعد، یورینیم کی افزدودگی کی سطح تین آعشاریہ چھے سات فی صد (3.67) سے بڑھانے کا آغاز کردیا ہے-

ایران نے یورپی ملکوں کو خبردار کردیا تھا کہ اگر وہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ نہیں پہنائیں گے تو اسلامی جمہوریہ ایران اور بھی شدت کے ساتھ تیسرا قدم اٹھائے گا اور اس نے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی سطح میں کمی لانے کے تیسرے قدم پر عمل شروع  کردیا ہے-

ایران کے محمکہ ایٹمی توانائی کے ترجمان بہروز کمالوندی نے ہفتے کی صبح تہران میں ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر مملکت کے فرمان کے مطابق، ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کی غرض سے چار اقدامات شروع کر دیئے ہیں اور پہلا اقدام ایٹمی معاہدے کی انتالیسیوں شق سے تعلق رکھتا ہے جو یورینیم افزدوہ بنانے والے آلات، جدید ترین سینیٹری فیوجز کی تیاری و تحقیق اور ایٹمی فضلے کے بارے میں ہے۔ بہروز کمالوندی نے کہا کہ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے کو بتا دیا گیا ہے کہ آج کے بعد سے ایران کے ایٹمی ذخائر میں ریسرچ کے نتیجے میں تیار ہونے والی پروڈکٹ کا بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جمعے سے آئی آر سکس سینٹری فیوجز میں گیس انجکشن کا آغاز کردیا گیا ہے- انہوں نے کہا کہ یہ قدم گیارہ سال کے بعد اٹھایا جانا تھا مگر فریق مقابل کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے گزشتہ روز ہی اس کا کام کا آغاز کردیا ہے۔ 

ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے ترجمان نے کہا کہ بیس آئی آر فور سینٹری فیوجز مشینوں کی چین بھی قائم کردی گئی ہے اور اس میں گیس بھری جاچکی ہے، حالانکہ ایٹمی معاہدے کے ضمیمے کی شق پینتس کے تحت، یہ کام گیارہوں سال کے آغاز میں انجام پانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بیس، آئی آر سکس، سینٹری فیوجز کی چین بھی جمعے سے قائم کردی گئی ہے اس نے اپنا کام شروع کردیا ہے جبکہ تیس آئی آر سکس سینٹری فیوجز کی دوسری چین کا قیام ہمارے اگلے پروگرام میں شامل ہے۔ کمالوندی نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ تیسرا قدم اٹھائے جانے کے ساتھ ہی ایران  تکنیکی شعبے میں اپنے وعدوں پر عملدرآمد کے اختتامی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور یہ ایک واضح پیغام ہے کہ جب تک معاہدے کے دیگر فریق اپنے وعدوں پر عمل نہیں کریں گے ایران سے بھی اس بات کی امید نہ رکھیں کہ وہ اپنے وعدوں کا پابند رہے گا-

امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپؤ نے اپنے ایک تشہیراتی بیان میں دعوی کیا ہے کہ ایران نے  یورینیم کی افزودگی میں اضافے کا حق محفوظ رکھا ہے اور یہی یہی بقول ان کے ایٹمی معاہدے کا سب سے بڑا نقص ہے- واشنگٹن میں فرانس کے سابق سفیر جررڈ آروڈ نے امریکی وزیر خارجہ کے ٹویئٹ اور تہران کے خلاف ان کے الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران تدریجی طور پر ایٹمی معاہدے سے نکل رہا ہے تو یہ اس لئے ہے کہ امریکہ نے اس معاہدے کو پامال کیا ہے اور جو پابندیاں، اس معاہدے کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہیں ان کو دوبارہ ایران کے خلاف عائد کردیا ہے-

روس کے ایوان زیریں ڈوما کے بین الاقوامی امور کمیٹی کے چیئرمین لئونید سلوتسکی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے جوہری معاہدے کے وعدوں کی معطلی سے متعلق تیسرا فیصلہ امریکی پابندیوں کے جواب میں اٹھایا ہے- یہ بات "لئونید سلوتسکی" نے جمعہ کو اپنے ٹیلگرام پیج میں کہی.انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ، ایران کو جوہری معاہدے سے نکلنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے لئے یورپی یونین پر دباؤ ڈال رہا ہے- سلوتسکی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے فیصلے، ایران کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیاں عائد کئے جانے، ایران کے ساتھ یورپی یونین کے مالیاتی نظام کو کمزور کرنے اور ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک لانے کے جواب میں ہیں.

جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی نے بھی ایران کے تیسرے اقدام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ایجنسی کے معائنہ کار ایران میں موجود ہیں اور وہ ایٹمی ریسرچ اور سینٹیری فیوج مشینوں سے متعلق تمام باتوں سے آگاہ ہیں-  عالمی جوہری ادارے کے عبوری سربراہ کرنل فیروٹا  (Cornel Feruta) نے آج اپنے دورۂ تہران کے موقع پر کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای ای) اپنے غیرجانبدارانہ اور پیشہ ورانہ رویے کو جاری رکھے گی اور یہ اس ایجنسی کی ساکھ کے فروغ کا باعث ہے- انہوں نے کہا کہ ہم ایران کے ساتھ باہمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں اور یہ ایجنسی اس شعبے میں دبا‎ؤ سے متاثر نہیں ہو گی.

 

 

ٹیگس

کمنٹس