چھتیس گڑھ کے سکما میں ہوئے نکسلی حملے کے بعد ماؤنوازوں اورسیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی جھڑپ میں 16 سے زائد نکسلی علیحدگی پسند ہلاک ہو گئے۔

سی آر پی ایف کے آئی جی دیویندر چوہان نے کہا ہے کہ بیجاپور کے باساگڑا تھانہ علاقہ کے رايگڈم کے جنگلوں میں سیکورٹی فورسز اور ماؤنوازوں کے درمیان تصادم ہوا، جس میں 15 سے 20 ماؤنوازوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

سیکورٹی فورسز کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ رايگڈم کے جنگلوں میں 100 سے150 کی تعداد میں ماؤنواز سرگرم ہیں۔ جس کے بعد سی آر پی ایف، ڈی آر جی، ضلع فورس اور کوبرا بٹالین کے اہلکارمتحدہ آپریشن کے لئے نکلے تھے۔ جنگل میں تین دنوں سے اینٹی نکسل آپریشن چلایا جا رہا تھا۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ہندوستان کی مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت سے کہا تھا کہ بستر میں ماؤنوازوں کے خلاف اب نیم فوجی دستے خاص طور پر سی آر پی ایف اکیلے سرچنگ پر نہیں جائے گی۔ سرچنگ تبھی ہوگی، جب مقامی پولیس کا تعاون ملے گا۔ اس کے بعد یہ پہلی مشترکہ کارروائی ہے۔

 

May ۱۷, ۲۰۱۷ ۰۳:۴۱ UTC
کمنٹس