May ۰۸, ۲۰۱۸ ۱۴:۴۱ Asia/Tehran
  • ایٹمی معاہدے کے بار ے میں ٹرمپ کا ممکنہ فیصلہ اور یورپ کا اعلان

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ منگل آٹھ مئی کو مقامی وقت کے مطابق دن میں دو بجے جامع ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے یا نہ رہنے کے فیصلے کا اعلان کریں گے- دوسری جانب یورپ کے تین بڑے ملکوں فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں امریکا کے فیصلے سے قطع نظر وہ اس معاہدے کی پابندی کرتے رہیں گے۔

فرانس کے وزیرخارجہ لےدریان نے برلین میں اپنے جرمن ہم منصب ہایکو ماس سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے اس سلسلے میں ایک مشترکہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برلین، لندن اور پیرس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے میں باقی رہیں گے-

یورپی ملکوں نے ایٹمی معاہدے کو اب تک صرف ایک ایٹمی معاہدے کے ہی طور پر دیکھا ہے جو اب تک کامیاب رہا ہے- ان تینوں یورپی ملکوں کے نقطہ نگاہ سے ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے اور اس پر نظر رکھنے کے لئے اس معاہدے سے بہتر اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی-

جرمن وزیر خارجہ ہایکو ماس کا کہنا ہے کہ ایٹمی معاہدے نے دنیا کو پر امن بنا دیا ہے اور اس معاہدے کے  بغیر دنیا غیر محفوظ ہو جائے گی-

جرمن وزیرخارجہ نے ایٹمی معاہدے کی ناکامی کے نتائج کے بارے میں کہا کہ ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ ایٹمی معاہدے کی ناکامی سے بحران پیدا ہو گا اور ہم پھر دو ہزار تیرہ میں لوٹ جائیں گے اور یہ وہ صورت حال ہے کہ جس کا کوئی بھی خواہشمند نہیں ہے-

یہ ایسی حالت میں ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے پیر اور منگل کی درمیانی رات اپنے ٹوٹر پیج پر لکھا کہ وہ آٹھ مئی کو امریکی وقت کے مطابق دن میں دو بجے ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں فیصلے کا اعلان کریں گے-

ایٹمی معاہدے کے بارے میں ٹرمپ کا نظریہ بنیادی طور پر مختلف ہے- انہوں نے اس  معاہدے کو ہمیشہ ایک وحشتناک اور برا معاہدہ قرار دیا اور اس کو ختم کرنے کی بات کی ہے-

ٹرمپ اس معاہدے میں ایسی ترامیم چاہتے ہیں جو ایران سے متعلق دیگر معاملات منجملہ ایران کی میزائل توانائی اور علاقے میں ایران کے اثرات کو محدود کرنے کے بھی شامل حال ہوں-

دوسری جانب ایران نے ایٹمی معاہدے پر اپنی مکمل پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کی صورت میں وہ مناسب راستے کا انتخاب کرے گا اور اس پر عمل کرے گا-

البتہ تینوں بڑے یورپی ملکوں نے کوشش کی ہے کہ اپنے سربراہان اور حکام کے دورہ واشنگٹن اور امریکی حکام سے بات چیت کر کے انہیں ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے پر راضی کریں اور ان ملکوں کے حکام نے ٹرمپ کو یقین دلایا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے سے ماورا ان کے مطالبات کی حمایت کریں گے اور ان کے مطالبات ماننے کے لئے ایران پر دباؤ ڈالیں گے-

ادھر یورپ میں ایک سوچ یہ بھی ہے کہ یورپی ملکوں کو نہیں چاہئے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی تقدیر کو امریکا کے حوالے کر دیں- یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی کی مشیر نتھالی ٹوچی نے کہا ہے کہ دونلڈ ٹرمپ  خود پسندی کا شکار ایک شخص کا نام ہے اور یورپ کو نہیں چاہئے کہ وہ ایٹمی معاہدے میں اس حد تک انہیں اہمیت دے-

مجموعی طور پر اس وقت یورپ ایٹمی معاہدے کے تعلق سے ایران کے خلاف ٹرمپ کا ساتھ دینے کے سلسلے میں دو راہے پر کھڑا ہے اور اس سلسلے میں یورپ کا کوئی بھی فیصلہ مشرق وسطی اور دنیا کی سلامتی پر اپنے گہرے اثرات مرتب کرے گا-

 

 

ٹیگس