Mar ۲۶, ۲۰۲۰ ۰۷:۳۷ Asia/Tehran
  • کورونا وائرس کی حقیقت؟ ایران، امریکا اور چین کے مابین کیوں جاری ہے لفظی جنگ؟ (دوسرا حصہ)

لفظی جنگ تب عروج پر پہنچ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ کورونا وائرس کو چینی وائرس کہیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیئو نے بھی متعدد بار یہی لفظ استعمال کیا حالانکہ یہ نسلی اور غیر اخلاقی تبصرہ ہے۔

اس جنگ میں نیا باب یہ شامل ہو گیا کہ چینی ماہرین نے وائٹ ہاوس اور کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فورٹ ڈیٹریک لیبارٹری کو بند کرنے کی وجہ بتائیں جو امریکی فوج کے میڈیکل شعبے کے زیر اہتمام ہے اور وائرس ریسرچ پر کام کرتی ہے۔ یہ لیبارٹری میری لینڈ میں ہے جسے گزشتہ سال بند کر دیا گیا۔

چین کے گلوبل ٹائمز نے اپنی ویب سائٹ پر چینی ماہرین کی مدد سے ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں گزشتہ برس اگست میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک مقالے کا حوالہ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: کورونا وائرس کی حقیقت؟ ایران، امریکا اور چین کے مابین کیوں جاری ہے لفظی جنگ؟ (پہلا حصہ)

نیویارک ٹائمز کے مقالے میں بتایا کیا ہے کہ فورٹ ڈیٹریک لیبارٹری میں خطرناک اور جان لیوا وائرس پر جاری تحقیقات کو صحت عامہ کے خدشات کی وجہ سے بند کر دیا گیا۔ وہاں جن وائرسز پر امریکی سائنس داں تحقیقات کر رہے تھے ان میں ہر طرح کے کورونا وائرس کا سورس سمجھا جانے والا وائرس بھی شامل تھا۔

لیبارٹری کے ترجمان نے اس وقت قومی سیکورٹی کا حوالہ دے کر اس بارے میں کوئی بھی اطلاع دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس وقت ایک نامعلوم وائرس سے 38 ہزار افراد کی جان گئی تھی تاہم امریکی حکومت نے اس پر پردہ ڈالا اور کہا کہ یہ افراد انفلونزا سے ہلاک ہوئے۔

چین میں لوگ ہزاروں سال سے چمگادڑ، کتے، بلی اور چوہے کھا رہے ہیں مگر کبھی کورونا نہيں پھیلا تھا۔ یہ بات صحیح ہے کہ امریکی سائنس دانوں نے یہ پتہ لگایا ہے کہ چمگادڑ، کورونا وائرس کی اصل وجہ ہے تاہم یہ وائرس اس سے انسان میں منتقل نہیں ہوتا، یہ بھی ماہرین کا خیال ہے۔

ہمارے ذہن میں یہ سوال ہے کہ یہ وائرس انہیں ممالک میں زیادہ تباہی کیوں مچا رہا ہے جو امریکا کے حریف سمجھے جاتے ہیں، جیسے چین، ایران، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کہ جن پر امریکا کی جانب سے شدید دباؤ ہے۔

بہرحال یہ طے کرنا ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ یہ وائرس کہاں سے آیا، یہ چینی ہے یا امریکی؟ جب تک اس کی تحقیقات کے بعد نتائج نہیں آ جاتے تب تک ہم اسی بات کو ترجیح دیں گے کہ چین کا الزام صحیح ہو سکتا ہے کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی حکومت پر ہم کو بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے۔

بشکریہ

(رای الیوم/عبد الباری عطوان/دنیائے عرب کے مشہور تجزیہ نگار)

* سحر عالمی نیٹ ورک کا مقالہ نگار کے موقف سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے *

 

ٹیگس

کمنٹس