Aug ۰۹, ۲۰۲۵ ۱۴:۰۶ Asia/Tehran
  • عوام کے ذریعے انتخات کی گئی حکومت پر لیفٹیننٹ گورنر کا راج

نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا کہ محمد علی جناح کا خیال تھا کہ کشمیر ایک مسلم ریاست ہے، یہ ان کے ساتھ چلے گا۔ جناح کا خیال تھا کہ کشمیر کہیں اور نہیں جائے گا۔

سحرنیوز/ہندوستان: موصولہ اطلاعات کے مطابق، جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ "اس وقت انگریزوں نے یہی کیا تھا۔ اگر کوئی ہندو بادشاہ ہے اور وہاں کے لوگ زیادہ تر مسلمان ہیں تو عوام کی مرضی ہوگی کہ وہ فیصلہ کریں کہ وہ کہاں جانا چاہتے ہیں۔ جیسا کہ جوناگڑھ میں ہوا، جیسا حیدرآباد میں ہوا۔"

نیشنل کانفرنس کے سربراہ نے کہا کہ اس ملک کے ساتھ ہاتھ ملانے والوں کا کیا حشر ہوا؟ فاروق عبداللہ نے کہا،’’ آج لوگوں نے (جموں و کشمیر میں) حکومت کو منتخب کیا ہے لیکن طاقت کس کے پاس ہے؟ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے۔" جموں و کشمیر کی 25 کتابوں پر پابندی کے فیصلے پر انہوں نے کہا کہ "وہ کشمیر کی تاریخ پر بات کرتے تھے، وہ اسے بھی برداشت نہیں کر سکتے۔"

 سابق وزیر اعلیٰ نے یہ بات دہلی میں ضیاء سلام اور آنند مشرا کی مشترکہ تحریر کردہ کتاب ’’دی لائین آف نوشہرہ‘‘ کی تقریب رونمائی میں کہی۔ واضح رہے کہ فاروق عبداللہ کی پارٹی مرکزی حکومت پر حملہ کر رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ فاروق عبداللہ نے 7 اگست کو انڈیا الائنس میٹنگ میں بھی یہ مسئلہ اٹھایا تھا۔

 

ٹیگس