Jun ۱۲, ۲۰۲۱ ۱۷:۵۹ Asia/Tehran
  • اقتصادی دہشت گردی کا خاتمہ امریکہ کی اصل آزمائش ہے/ امریکی دہشتگردی اور فلسطین میں صیہونی جرائم پر سلامتی کونسل کی خاموشی افسوسناک ہے

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی شکست خوردہ پالیسی جاری رکھنے کے سلسلے میں امریکہ کی بائیڈن حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی نظر میں امریکہ کی اقتصادی دہشت گردی کا خاتمہ اس کی اصلی آزمائش ہے۔

سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ کا جائزہ لینے کے لئے اقوام متحدہ کا جنرل اجلاس تشکیل پایا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے دو ہزار بیس کے مغربی ایشیا کے بعض واقعات اور سلامتی کونسل سے متعلق بعض اقدامات کے بارے میں ایران کے موقف پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ سن دو ہزار بیس کے ابتدائی دنوں میں جب امریکہ نے اس ملک کے صدر کے براہ راست حکم سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے اہم ترین کمانڈروں منجملہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو بھی شہید کیا گیا اور اس کے چند روز بعد ہی امریکی صدر نے ایران کے بارہ اہم اور حساس مقامات کو حملوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے خاموشی اختیار کی۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے کہا کہ البتہ اسی سال جب امریکہ نے ایران کے خلاف ہتھیاروں کی پابندی کی سلسلے میں قرارداد کا مسودہ پیش کیا تو سلامتی کونسل کے تیرہ اراکین نے اسے سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جب ایران کے خلاف قانون کا غلط استعمال اور ٹریگر میکانزم کو فعال کرنے کی کوشش کی تو بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ان ہی تیرہ اراکین نے امریکہ کے اس اقدام کو بھی مسترد کر دیا اور اعلان کیا کہ امریکہ، بین الاقوامی ایٹمی معاہدے سے علیحدہ ہوجانے کے بعد اس میکانزم کو فعال کرنے کا حق نہیں رکھتا اور اس سلسلے میں اس کا دعوی بالکل غلط ہے جس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

مجید تخت روانچی نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکہ کی پالیسی میں تبدیلی کا دعوی بھی صرف باتوں کی حد تک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی امریکی پالیسی بدستور جاری ہے جس کی بنا پر ایران بیرون ملک اپنے مالی ذرائع سے دواؤں کی خریداری تک سے قاصر اور محروم رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے کہا کہ اگرچہ ویانا میں جاری جوہری مذاکرات، بین الاقوامی ایٹمی معاہدے میں امریکہ کی واپسی کے لئے اس کے سیاسی عزم و ارادے کا حقیقی طور پر جائزہ لینے کے لئے پہلا قدم ہے، تاہم حقیقی و اصلی آزمائش اس وقت ہوگی جب عملی طور پر یہ بات ثابت ہو جائے گا کہ امریکہ نے ہٹ دھرمی کا راستہ ترک کر دیا ہے، ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی اپنی پالیسی سے دستبردار ہو گیا ہے اور اس نے ایران کے خلاف اقتصادی دہشت گردی بھی بند کر دی ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب مجید تخت روانچی نے اسی طرح فلسطینی علاقوں پر جاری غاصبانہ قبضے، غزہ کے محاصرے، اس علاقے پر مسلط کردہ وحشیانہ بارہ روزہ جنگ میں عام شہریوں کے قتل عام میں اسرائیل کے وحشیانہ جرائم اور رہائشی مکانات، اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں نیز اسپتالوں کو تباہ کرنے میں اسرائیل کے اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ قابل افسوس بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس صورت حال کا بھی صرف نظارہ کرتی رہی ہے۔

انہوں نے شام کے بعض علاقوں پر امریکا کے قبضے اور جارح سعودی اتحاد کے ہاتھوں یمن میں دردناک تباہی اور یمنی عوام کے قتل عام کی روک تھام میں سلامتی کونسل کی لاتعلقی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ٹیگس