غزہ اور خان یونس میں صیہونی فوج کی بمباری، بچوں سمیت 7 فلسطینی شہید
صیہونی فوج کی جانب سے غزہ شہر کے مشرق اور اس علاقے کے جنوب میں واقع خان یونس میں توپ خانے کے حملوں اور پناہ گزینوں کے خیموں پر بمباری میں بچوں سمیت سات فلسطینی شہید ہو گئے۔
سحرنیوز/عالم اسلام: فلسطینی میڈیا کے مطابق آج بدھ کی صبح غزہ شہر کے مشرقی علاق زیتون میں پناہ گزینوں کے خیموں پر صیہونی حکومت کے حملے کے نتیجے میں ایک بچی سمیت چار فلسطینی شہید ہو گئے۔
اسی طرح اس علاقے کے جنوب میں واقع خان یونس کےقیزان رشوان کے علاقے میں پناہ گزینوں کے خیموں پر ایک اور حملے میں ایک بچے سمیت تین فلسطینی شہید ہو گئے۔
اس سے قبل بھی صیہونی فوج کے توپ خانے نے ان علاقوں اور آس پاس کے کئی علاقوں پر گولہ باری کی تھی جس سے متعدد فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔
مشرقی غزہ شہر میں صیہونی فوج کے توپ خانے نے تفاح محلے میں یافا اسٹریٹ پر واقع مکانات اور مشرقی غزہ شہر میں الدورہ اسپتال کے اطراف کے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا۔
صیہونی فوج کے ڈرونز نے بھی اپنی مشین گنوں سے ان علاقوں پر شدید گولہ باری کی جبکہ اسی دوران صیہونی لڑاکا طیارے اور جاسوس طیارے انتہائی کم اونچائی پر علاقے کے آسمان پر گشت کر رہے تھے-
غزہ انفارمیشن سنٹر نے اعلان کیا ہے کہ اس سال جنوری کے آخر تک، اس نے صیہونی حکومت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی ایک ہزار چار سو پچاس مرتبہ سے زیادہ خلاف ورزیاں ریکارڈ کی ہیں-
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
فلسطینی وزارت صحت نے یہ بھی بتایا کہ صیہونی فوج کی ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں غزہ میں پانچ سو بتیس فلسطینی شہید اور پندرہ سو کے قریب زخمی ہوئے۔
دوسری جانب عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے پولیٹیکل بیورو کے رکن ہیثم عبدہ نے غزہ پر صیہونی حکومت کے حملوں میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے قابضین کی جانب سے جنگ بندی کو نظر انداز کرنے اور غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے ان کی عدم دلچسپی اور تخریب کاری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ہیثم عبدہ نے کہا کہ غزہ پر قابضین کے حملوں میں اضافہ ایک جان بوجھ کر جارحیت ہے جس کا مقصد جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کو کمزور کرنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ حملے حادثاتی نہیں ہیں، بلکہ معاہدوں اور وعدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے ذریعے نئے حقائق مسلط کرنے کے لیے ٹارگٹڈ پالیسی کا حصہ ہیں۔
عبدہ نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت کے تازہ ترین حملے اور چند روز قبل ہونے والے قتل عام کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کا مقصد کہ جو امریکہ کی مکمل حمایت و مدد سے کیے جاتے ہیں تباہی اور نسلی تطہیر ہے۔
واضح رہے کہ جارح صیہونی حکومت نے امریکہ کے تعاون سے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی نسل کشی کے علاوہ بڑے پیمانے پر تباہی مچائی جس کی وجہ سے غزہ کی پٹی کا نوے فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے اور اقوام متحدہ نے اس نقصان کی تعمیر نو پر لگ بھگ ستر ارب ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا ہے۔
جارح صیونی حکومت نے سات اکتوبر دوہزار تیئیس کو دو اہم مقاصد تحریک حماس کے خاتمے اور اس علاقے سے صیہونی قیدیوں کی واپسی کے مقصدسے غزہ کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کیا تھا لیکن وہ ان مقاصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اسے قیدیوں کے تبادلے کے لیے حماس تحریک کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑا اور پھر نو اکتوبر دوہزار پچیس کو اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے حصول کا باضابطہ اعلان کیا۔
دس اکتوبر کو صیہونی فوج نے بھی غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کیا، تاہم وہ مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے