May ۲۲, ۲۰۲۲ ۲۲:۱۷ Asia/Tehran
  • پاسبان حرم شہید صیاد کی شہادت کیسے ہوئی؟ عینی شاہد کا بیان+تصاویر

شہید صیاد خدائی کی شہادت کے عینی شاہدین کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ سے چند منٹ قبل ایک پرائیڈ گاڑی نے قائن اسٹریٹ سے غلامیان گلی تک ٹریفک بلاک کر دی تھی۔

اطلاعات کے مطابق تہران کے مقامی وقت کے مطابق تقریبا شام چار بجے شہید حسن صیاد خدائی کو مجاہدین اسلام اسٹریٹ پر واقع غلامیان گلی میں شہید کر دیا گیا۔

قتل کے واقعے کے ایک عینی شاہد نے فارس نیوز کو بتایا کہ قتل سے چند منٹ پہلے، جب میں قائن اسٹریٹ سے غلامیان گلی میں داخل ہونے والا تھا تو مجھے ایک پرائیڈ کار ملی جس نے گلی کو بند کر دیا اور گاڑی کی ڈگی کھلی ہوئی تھی اور وہ دوسری گاڑیوں کو اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ کاروں کو سڑک کے گرد گھومنے اور مجاہدین اسلام اسٹریٹ سے گلی کے دوسری طرف سے غلامیان گلی میں داخل ہونے پر مجبور کیا گیا۔

واقعے کے ایک اور عینی شاہد اور شہید صیاد کے پڑوسیوں میں سے ایک نے جنہوں نے سب سے پہلے ایمرجنسی سروسز کو کال کی تھی، کہا کہ انہوں نے فائرنگ کے ساتھ ہی گلی میں گیس سلینڈر کے پھٹنے کی تیز آواز سنی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب میں گلی میں پہنچا تو مجھے شہید صیاد کی لاش ملی اور میں نے فوراً ایمرجنسی سروسز کو کال کی۔

ان کے ایک اور پڑوسی جو واقعے کے وقت اپنی کھڑکی پر کھڑے تھے، کہتے ہیں کہ جب میں نے گولیوں کی آوازیں سنی، تو میں نے آواز کی طرف توجہ دی اور اس شخص کو دیکھا جو گولی چلا رہا تھا۔  ان کا کہنا تھا کہ ایک اور شخص جو کہ ایک موٹر سائیکل ڈرائیور تھا، آذری گلی کے نکڑ پر انتظار کر رہا تھا اور پہلا والا شخص قتل کے بعد تیزی سے موٹور سائیکل پر سوار ہونے کے فوراً بعد موقع سے فرار ہو گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ موٹور سائیکل پر بلیک باکس لگا ہوا تھا۔  سیکیورٹی اور اور تحقیقاتی ادارے جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور خصوصی ٹیمیں خصوصی آلات کے ساتھ جائے وقوعہ کا معائنہ کر رہی ہیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا ہے اور تحقیقات کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ٹیگس