Sep ۰۳, ۲۰۲۲ ۰۲:۰۶ Asia/Tehran
  • ایران کی ڈرون طاقت نے دشمنوں کی نیند حرام کر دی

صیہونی تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ ایران کا ڈرون پروگرام اسرائیل کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

سحر نیوز/ ایران: صیہونی سیکورٹی کے ایک ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں ڈرون سازی کے میدان میں ایران کی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس وقت ایران کا ڈرون پروگرام اس حکومت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے تحقیقاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ حماس، حزب اللہ اور خطے میں اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے خلاف دیگر مزاحمتی گروہوں کی جانب سے ڈرونز کے استعمال کے بعد ڈرونز طیارے تل ابیب کے لیے ایک بڑھتا ہوا خطرہ بن گئے ہیں۔

اس سکیورٹی ادارے نے جولائی میں حزب اللہ کی جانب سے کاریش آئل اینڈ گیس فیلڈ میں ڈرون بھیجے جانے کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صیہونی حکومت مذکورہ ڈرونز سے نمٹنے میں کامیاب ہو گئی لیکن اس واقعے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے کہ اسرائیل کا پاس دشمن ممالک اور گروہوں کے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کی توانائی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا کیا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ڈرون اسرائیل کے خلاف استعمال کیے گئے ہوں۔ حزب اللہ نے 2006 میں دوسری لبنانی جنگ کے دوران ڈرون بھی بھیجے۔ حزب اللہ نے مشرق وسطیٰ کے دیگر گروہوں کی طرح یہ بھی پایا ہے کہ ڈرون خواہ چھوٹے اور غیر مہلک کیوں نہ ہوں، مختلف کارروائیوں کے لیے ایک کارآمد ہتھیار ہیں۔ 2012 میں ایک جاسوسی ڈرون جنوبی مقبوضہ فلسطین میں سیکیورٹی سہولیات سے معلومات اکٹھا کرنے کے لیے داخل ہوا۔ 2012 سے 2021 کے درمیان حزب اللہ نے مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں پر مستقل بنیادوں پر ایسی ڈرون پروازیں انجام دیں جن کی اوسطاً سالانہ تعداد 75 تھی۔ گزشتہ سال یعنی 2021 میں ایک ڈرون مقبوضہ فلسطین کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور آدھے گھنٹے کے بعد صحیح و سالم لبنان واپس چلا گیا۔

اس تھنک ٹینک کا خیال ہے کہ حزب اللہ کا ڈرون کا بڑھتا ہوا استعمال صیہونی حکومت کے ساتھ وسیع جنگ میں اس آلے پر توجہ مرکوز کرنے کی ایک وجہ ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ عام اوقات میں ڈرونز کو معلومات اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن جارحانہ مشن ڈرون طیارے کے منصوبے کا بنیادی مقصد ہے۔

صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے مطالعہ کے مرکز نے پھر دعویٰ کیا ہے کہ  ایران کا ڈرون پروگرام اسرائیل کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ایران نے مشرق وسطیٰ میں تمام اہداف پر حملہ کرنے کی طاقت حاصل کر لی ہے۔

ٹیگس