ایران کے خلاف امریکہ کے جنگی جرائم
امریکہ نے پابندیوں کے نام پر ایران کے خلاف فوجی جارحیت اور جنگی جرائم کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔
سحرنیوز/ایران: ارنا کے نامہ نگار، شہاب شہسواری علویجہ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ماہرین کی نظر میں دنیا کے ملکوں کو ایران کے ساتھ اقتصادی روابط منقطع کرنے پر مجبورکرنا، امریکی جارحیت اور جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے۔
انھوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ماہرین کے مطابق دنیا کے ملکوں کو ایران کے ساتھ اقتصادی روابط منقطع کرنے اور ایرانی عوام کے خلاف بحری اور فضائی محاصرہ میں مشارکت پر مجبور کرنا، جنگی جرائم کا دوام، انسان دوستانہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق کولوراڈو یونیورسٹی کی پروفیسر مریم جمشیدی نے ایک تجزیاتی کالم میں بحری محاصرے کو غیر قانونی اور واشنگٹن کی جارحیت کا دوام قرار دیا ہے۔
انھوں نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ اس سے واشنگٹن کو کسی بھی قسم کا فوجی فائدہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ اس کا مقصد، مذاکرات میں سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔
ماہر قانون داں، پروفیسر مریم جمشیدی نے وضاحت کی ہے کہ واشنگٹن نے محاصرے کا منصوبہ، ایران کا اقتصادی ڈھانچہ تباہ کرنے اور ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کے لئے تیار کیا ہے۔
دوسری جانب ایران ایئر کے ایم ڈی طاہر عبدالحئی نے شہری ہوابازی پر پابندی کو خطرناک سرطان سے تعبیر کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ دباؤ آہستہ آہستہ خطرناک سرطان کی طرح بڑھتا جارہا ہے۔
ایران ایئر کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبدالحئی نے بتایا ہے کہ امریکہ نے ایران کی شہری ہوابازی کے خلاف پابندی ایسی حالت میں لگائی ہے کہ اس کے وحشیانہ فوجی حملوں میں دسیوں مسافر بردار طیاروں کو سخت نقصان پہنچا ہے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel