ایرانی وزارت خارجہ میں برطانوی سفیر کی طلبی
ارنا کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکام کی جانب سے ایران پر الزامات عائد کیے جانے کے بعد، برطانیہ کے سفیر کو وزارتِ خارجہ میں طلب کر لیا گیا۔
سحرنیوز/ایران: رپورٹ کے مطابق وزارت خارجہ میں برطانوی سفیر کو طلب کرکے ایران کے حوالے سے برطانوی حکومت کے مسلسل تخریبی رویہ پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
ارنا کے مطابق، برطانوی وزیرِ اعظم کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران پر بے بنیاد الزامات عائد کیے جانے کے بعد، جمعرات یکم اکتوبر کو تہران میں برطانیہ کے سفیر ہیوگو شارٹر (Hugo Shorter) کوایران کے نائب وزیر خارجہ نے طلب کرکے شدید احتجاج کیا۔
ایران کے نائب وزیرِ خارجہ برائے سیاسی امور مجید تخت روانچی نے اس موقع پر ایرانی قوم کے خلاف متعدد غیر قانونی اقدامات، خاص طور پر ایران کے خلاف امریکی صیہونی فوجی جارحیت کی تیاری اور عمل درآمد کے لیے برطانوی اختیار میں موجود فوجی اڈے اور ديگر سہولیات کی فراہمی، کے سلسلے میں برطانوی حکومت کی بین الاقوامی ذمہ داری کی یاد دہانی کرائی۔
مجید تخت روانچی نے کہا کہ برطانوی حکومت کو امریکہ و صیہونی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم میں اپنے کردار کی بابت جواب دینا ہوگا۔
مجید تخت روانچی نے برطانوی حکام کے ان بے بنیاد اور مضحکہ خیز دعووں کو مسترد کر دیا جن میں ایران کو فیئر فورڈ ایئر بیس پر تخریب کاری کی مبینہ سازش سے جوڑے کی کوشش کی گئی ہے۔
انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ برطانوی حکومت اس معاملے میں باضابطہ وضاحت پیش کرے اور ایران کے حوالے سے اپنے نامناسب رویے کی اصلاح کرے۔
برطانوی سفیر نے اس بات کا وعدہ کیا وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے احتجاج سے لندن کو آگاہ کریں گے۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel