تہران نشست علاقائی سلامتی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے: ایرانی وزارت خارجہ
https://urdu.sahartv.ir/news/iran-i458150-تہران_نشست_علاقائی_سلامتی_کا_پیش_خیمہ_ہوسکتی_ہے_ایرانی_وزارت_خارجہ
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے سینیئرعہدیداروں کی ایران آمد اور تہران نشست علاقائی ملکوں کے ذریعے خطے کی سلامتی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔
(last modified 2026-10-26T10:31:47+00:00 )
Oct ۲۶, ۲۰۲۶ ۱۴:۰۱ Asia/Tehran
  • تہران نشست علاقائی سلامتی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے: ایرانی وزارت خارجہ

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے سینیئرعہدیداروں کی ایران آمد اور تہران نشست علاقائی ملکوں کے ذریعے خطے کی سلامتی کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔

سحرنیو/ایران: ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر 26 اکتوبر کو پریس کانفرنس میں، وزارت خارجہ کے اہم ترین اقدامات، فیصلوں اور نظریات کی وضاحت کی۔

انھوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے سینیئر عہدیداروں کی تہران آمد کے پروگرام کے بارے میں ارنا کے نامہ نگار کے سوال کے جواب میں کہا کہ ملک کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری نے اعلان کیا ہے کہ  پاکستان کے آرمی چیف، ترکیہ کے انٹیلیجنس چیف اور سعودی عرب کے وزیر دفاع آج تہران آرہے ہیں۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ تہران نشست کی پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دورہ تہران میں یہ تجویز پیش کی تھی اور اسلامی جمہوریہ ایران نے مثبت نقطۂ ںگاہ کے ساتھ اس تجویز کا جائزہ لیا اور یہ نشست آج تہران میں منعقد ہورہی ہے۔  

اسماعیل بقائي نے کہا کہ ہماری نظر میں یہ بات مبارک ہے کہ علاقے کے ممالک اپنی مصلحت اور مفاد کی بنیاد پر علاقے میں سلامتی کے نظام کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ نشست خطے میں علاقائی ملکوں کے ذریعے سلامتی قائم کئے جانے کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے جس کی ہم کئی عشرے سے تاکید کررہے ہیں اور ہمارا نظریہ ہے کہ اس خطے میں علاقائی ملکوں کے ذریعے ہی سلامتی قائم ہوسکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری سے پاکستان کے آرمی چیف، سعودی عرب کے وزیردفاع اور ترکیہ کے انٹیلیجنس چیف کی ملاقات میں اس موضوع پر گفتگو ہوگی۔

  اسماعیل بقائی نے کہا کہ چونکہ یہ اپنی نوعیت کی پہلی نشست ہے، اس لئے اس میں مختلف موضوعات زیر بحث آئیں گے لیکن اہم ترین مسئلہ علاقائی سلامتی کا ہے۔  

انھوں نے بتایا کہ تہران نشست میں، غاصب صیہونی حکومت کی توسیع پسندی، مقبوضہ فلسطین کے حالات اور لبنان کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ہمیں فالو کریں:

Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok  whatsapp channel