رہبر انقلاب کی جانب سے مسلح افواج کو دیا جانے والا بنیادی مشن
دشمن پر ہر لمحہ نظر رکھنا اور سرحدوں سے ماورا جواب، مسلح افواج کو رہبر انقلاب کی جانب سے دیا جانے والا بنیادی مشن ہے۔
سحرنیو/ایران: ارنا کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دو اراکین پارلیمان نے رہبر انقلاب اسلامی سے مسلح افواج کے کمانڈروں کی ملاقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، دشمن کی سبھی نقل وحرکت پر ہر لمحہ نظر رکھنے اوراس کے اقدامات کا سرحدوں سے ماورا مقابلے کوملک کی دفاعی اسٹریٹیجی کے دو اہم بنیادی محور قرار دیئے ہیں۔
یاد رہے کہ سپریم کمانڈر آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے گزشتہ روز مسلح افواج کے سینیئر کمانڈروں سے ملاقات میں فرمایا تھا کہ ہر سطح اور ہر نوعیت کے خطرے کا فوری اور مؤثرنیز جغرافیائی حدود کو مدنظر رکھے بغیر جواب دیا جائے۔
آپ نے فرمایا ہے کہ اگر دشمن نے دوبارہ فوجی حملہ یا دہشت گردی شروع کی تو اس کے خاتمے کے وقت اور شرائط کا تعین ایران کے عوام اور مسلح افواج کریں گی۔
اسی سلسلے میں، پارلیمنٹ کے کمیشن برائے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کے رکن اسماعیل کوثری نے ارنا سے گفتگو میں کہا ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی نے پوری صراحت کے ساتھ ذمہ داری بیان کردی ہے کہ ایک لمحے کی غفلت بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ یہ شہید رہبر انقلاب آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کے اس فرمان کا ہی تسلسل ہے کہ "اس بار ایران کی سرحدوں سے ماورا دشمن کا مقابلہ ہوگا" اسی لئے اس مشن کا اعلان کردیا گیا ہے تاکہ دشمن جان لے کہ ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور پوری صلابت کے ساتھ یہ مشن انجام دیں گے۔
انھوں نے کہا کہ مسلح افواج کے کمانڈروں کو حکم دے دیا گیا ہے کہ ہر لمحہ اپنی چوکسی اور آمادگی باقی رکھیں تاکہ دشمن یہ تصور بھی نہ کرسکے کہ ماضی کی طرح جنگ شروع کرسکتا ہے، اس بار اگر اس نے جنگ شروع کی تو پوری صلابت کے ساتھ اس کے ہر اقدام کا جواب دیا جائے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے ایک اور رکن محمد صالح جوکار نے بھی ارنا سے گفتگو میں کہا ہے کہ آج ہماری مسلح افواج کی آمادگی اعلی ترین سطح پر ہے۔
انھوں نے کہاکہ جیسا کہ سپریم کمانڈر نے فرمایا ہے، دشمن کے اقدام کے جواب میں جغرافیائی یا سیاسی سرحدیں مد نظر نہیں ہوں گی۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel