یمن میں سعودی اتحاد کے دسیوں فوجیوں کی ہلاکت
یمن کی مسلح افواج نے کہا ہے کہ شمالی صوبے صعدہ میں سعودی عرب اور اس کے اتحادی ملکوں کے کم سے کم ایک سو نوے فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا گیا۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی السریع نے کہا ہے کہ یمنی فوج نے شمالی صوبے صعدہ کے باقم علاقے میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں کو پسپا کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں کم سے کم نوے جارح فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے جبکہ مزید سو جارح فوجی زخمی ہوئے ہیں-
یمنی فوج کے ترجمان نے کہا کہ یمنی فوج نے اسی طرح یمن کے صوبوں ضالع اور اب میں ناصہ نامی اہم اور اسٹریٹیجک پہاڑیوں کو جارح سعودی اتحاد کے غاصبانہ قبضے سے آزاد کرا لیا ہے-
اس درمیان یمنی فوج کے میزائل یونٹ نے بھی سعودی عرب کے جنوبی صوبے نجران کے اجاشر علاقے میں سعودی فوجیوں کے ایک ٹھکانے پر زلزال میزائل سے حملہ کیا-
دوسری جانب یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ محمد علی الحوثی نے کہا ہے کہ برطانیہ یمنی بچوں کو یمن کے خلاف جنگ کی ٹریننگ دے رہا ہے-
یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ یمن کے خلاف امریکا، برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سربراہی میں بننے والے فوجی اتحاد میں چالیس فیصد فوجیوں کی تعداد بچوں اور نوجوانوں کی ہے جنھیں برطانیہ ٹریننگ دے رہا ہے-
اس سے پہلے بھی برطانوی میڈیا نے خبر دی تھی کہ برطانیہ اور سعودی عرب مل کر جنگ یمن کے لئے بچوں کو تیار کر رہے ہیں اور مشترکہ طور پر انہیں ٹریننگ دے رہے ہیں-
سعودی عرب نے امریکا، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ حملے شروع کر رکھے ہیں جن میں اب تک سولہ ہزار سے زائد بے گناہ یمنی شہری شہید اور دسیوں ہزار دیگر زخمی ہوئے ہیں جبکہ سعودی اتحاد کے وحشیانہ حملوں میں یمن کی بیشتر بنیادی شہری تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں اور محاصرے کی وجہ سے دسیوں لاکھ یمنی شہریوں کو قحط بھوک مری اور طرح طرح کے وبائی امراض کا سامنا ہے-