Jun ۲۵, ۲۰۱۹ ۱۵:۴۸ Asia/Tehran
  • سینچری ڈیل اور بحرین کانفرنس کے خلاف ہزاروں فلسطینیوں کے مظاہرے

ہزاروں فلسطینیوں نے رام اللہ اور جنین میں مظاہرے کر کے بحرین میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس کی مذمت اور امریکہ کے ناپاک سینچری ڈیل منصوبے کو ناکام بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

رام اللہ اور جنین میں ہونے والے مظاہروں میں شریک ہزاروں فلسطینی شہری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور بحرین اجلاس میں شرکت کرنے والے عرب حمکرانوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

مظاہرین نے بحرین اقتصادی کانفرنس کو فلسطینی کاز کے خلاف امریکی صیہونی سازش قرار دیا جس میں بعض عرب حکمران بھی شریک ہیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کرنے والے ہرگز فلسطینی عوام کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔
فلسطینی اتھارٹی کے وزیراعظم نے بھی بحرین میں ہونے والے اقتصادی اجلاس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اجلاس ہرگز کامیاب نہیں ہو گا۔
فلسطین کے وزیراعظم محمد اشتیہ نے واضح کیا کہ فلسطینیوں نے اس کانفرنس کی مخالفت اور اس میں شرکت نہ کر کے اس کے انعقاد کا قانونی جواز سلب کر لیا ہے۔
حماس کے رہنما مشیر المصری نے بھی بحرین کانفرنس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سینچری ڈیل منصوبے کو ناکام بنانے کی بھرپور کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے مزاحمتی قوتوں پر زور دیا کہ وہ سینچری ڈیل کو ناکام بنانے کے لیے اپنی توانائیوں میں اضافہ کریں۔ انہوں نے دنیا کے تمام ملکوں اور خاص طور سے عرب ملکوں سے اپیل کی وہ بحرین میں ہونے والی شرمناک کانفرنس میں شرکت سے گریز کریں۔
حماس کے سینئیر رہنما محمد الزہار نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحرین کانفرنس میں فلسطینیوں کے خون کا سودا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس میں اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اور عرب تشخص کی حفاظت کے لیے بہائے جانے والے خون کو بیچا جائے گا۔
انہوں نے ناپاک سینچری ڈیل کی ڈٹ کر مخالفت کرنے پر پوری فلسطینی قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی فلسطینی صدی کی ڈیل کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
ادھر کویت کی پارلیمینٹ نے بھی سینچری ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے ہونے والی بحرین کانفرنس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
کویتی پارلیمینٹ کے ارکان کے تیار کردہ بیان میں جسے اسپیکر مرزوق الغانم نے پڑھ کر سنایا حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس نشست کے بائیکاٹ کے حوالے سے ٹھوس موقف کا اعلان کرے۔
کویتی اراکین پارلیمنٹ کے بیان میں آیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام کویت کے اصولی موقف اور قوانین کے منافی ہے اور ہم فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے دفاع کا خود کو پابند سمجھتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین کانفرنس کا مقصد فلسطینیوں کے حقوق کا ضیاع اور اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو جواز فراہم کرنا ہے۔
درایں اثنا بحرین کی سب سے بڑی سیاسی اور آمریت مخالف جماعت جمعیت الوفاق نے بھی بحرین کانفرنس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں کی پشت میں خنجر گھونپنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
الوفاق کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل شیخ حسین الدیہی نے دارالحکومت منامہ میں ہونے والی کانفرنس کی ناکامی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صیہونی منصوبے سینچری ڈیل کو تاریخ کے کوڑے دان میں ڈال دیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض عرب ملکوں کے تعاون سے تیار کیے جانے والے ناپاک امریکی صیہونی منصوبے سینچری ڈیل کے تحت بیت المقدس صیہونی حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا، فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنے وطن واپس لوٹنے کا حق نہیں ہو گا اور فلسطین صرف غرب اردن اورغزہ کے کچھ علاقوں تک ہی محدود رہے کا۔
بحرین میں منگل سے ہونے والی دو روزہ اقتصادی کانفرنس کو اسی ناپاک منصوبے پر عملدرآمد کا پہلا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران لبنان، عراق، چین اور روس سمیت بہت سے اسلامی اور غیر اسلامی ملکوں نے بحرین کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹیگس