Feb ۱۶, ۲۰۲۰ ۱۴:۵۸ Asia/Tehran
  • عام افغان شہریوں پر دہشتگرد امریکی فوج کے حملے

دہشت گرد امریکی فوجیوں کے فضائی حملوں میں عام افغان شہریوں کے ہونے والے جانی نقصان میں اضافے پر اہم افغان شخصیات ، ممبران پارلیمنٹ اور عوام نے سخت احتجاج کیا ہے

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے ایک بیان میں گذشتہ جمعے کو دارالحکومت کابل کے مشرقی علاقے میں عام شہریوں پر امریکی فوج کے فضائی حملے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے کہ امریکہ ، عام شہریوں کے قتل عام کے بجائے امن کے عمل اور جنگ کے خاتمے پر توجہ دے-

حامد کرزئی نے اس سے پہلے بھی افغانستان کے سرکاری مراکز اور پبلک مقامات پر ہونے والے حملوں کو امریکی فوجیوں سے افغان عوام کی نفرت و بیزاری میں اضافے کا اصلی عامل قرار دیا تھا۔

مشرقی افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے ضلع سرخ رود میں جمعے کو دوگاڑیوں پر امریکی فوجیوں کے فضائی حملے میں کم سے کم دس عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔صوبہ ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطاء اللہ نے سرخ رود علاقے پر دہشتگرد امریکی فوج کے فضائی حملے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں مارے جانے والے تمام افراد عام شہری تھے۔

گذشتہ ایک برس کے دوران ہرات ، فراہ ، قندوز اور بادغیس سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں پر امریکی جنگی طیاروں اور ڈرون حملوں میں سات سو پچاس عام شہری ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔

افغانستان کے رہائشی علاقوں پر امریکی فوجیوں کے حملوں میں شدت آنے کے بعد ممبران پارلیمنٹ ، سیاسی و مذہبی شخصیات اور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔اسی بنا پر افغان ممبران پارلیمنٹ، حالیہ دنوں میں کئی بار افغانستان کے مختلف علاقوں پر دہشتگرد امریکی فوجیوں کے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ملک سے غیرملکی فوجیوں کے باہر نکلنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

درایں اثنا افغان پارلیمنٹ میں ہرات کے ممبر پارلیمنٹ محمد صادق قادری نے افغان عام شہریوں پر امریکی فوج کے حملوں پر امریکہ اور افغان حکومت کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات سے عوام میں سخت ناراضگی پائی جاتی ہے۔

صوبہ قندوز کی افغان ممبرپارلیمنٹ فاطمہ عزیز نے بھی دہشتگرد امریکی فوجیوں کے فضائی حملوں کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان جرائم کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہئے اور اگر اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو اس سے پہلے سزا دی گئی ہوتی تو آج دوبارہ یہ جرائم انجام نہ دیئے جاتے۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران افغانستان کے بلخ ، قندوز اور زابل سمیت کئی دیگر صوبوں میں عام شہریوں پر دہشتگرد امریکی فوج کی بمباری کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔کچھ دنوں پہلے افغانستان کے انسانی حقوق کمیشن نے ایک بیان میں غیرملکی فوجیوں کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکت میں اضافے پر تشویش کا اظہار اور اس ملک میں انسانی حقوق کی باربار خلاف ورزی کو جنگی جرم قرار دیا تھا  ۔اس بیان میں غیرملکی فوجیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عام شہریوں کا قتل عام جلد سے جلد روک دیں۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق انیس برس قبل جب سے امریکی فوجی دہشتگردی کے خلاف جنگ اور قیام امن کے بہانے افغانستان میں آئے ہیں اس وقت سے اب تک اس ملک میں اڑتالیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں ۔

ٹیگس