Aug ۱۸, ۲۰۲۱ ۲۲:۳۸ Asia/Tehran
  • جلال آباد میں مظاہرین پر طالبان کی فائرنگ

طالبان کے ایک وفد نے کابل میں افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی اور اعلی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی ہے۔

کابل سے ہمارے نمائندے کے مطابق انس حقانی کی قیادت میں طالبان رہنماؤں کے ایک وفد نے حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ملاقات میں افغانستان سے متعلق مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ طالبان کے سیاسی رہنماؤں اور انتقال اقتدار کے لیے قائم کی گئی عبوری افغان کونسل کے ارکان کے درمیان پہلی ملاقات ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کی شب اپنی پہلی پریس کانفرنس میں وسیع البنیاد  حکومت کے قیام کے لیے ملک کے سرکردہ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کا اعلان کیا ہے۔

طالبان نے سیکورٹی چیک پوسٹ قائم کرکے لوگوں کی ایئرپورٹ تک رسائی محدود کردی ہے اور افغانیوں کے موبائل فون بھی چیک کیے جارہے ہیں۔ بعض خبروں میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے سابق حکومت اور مغربی اداروں کے لیے کام کرنے والے لوگوں کے گھروں اور دفتروں کی بھی تلاشی لی ہے۔

درایں اثنا اطلاعات ہیں کہ صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد میں، مظاہرہ کرنے والوں پر طالبان نے فائرنگ کردی ہے۔ خبروں میں کہا گیا کہ برطانوی سامراج سے آزادی کی سالگرہ کے موقع پر قومی پرچم کے ساتھ مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں پر مسلح طالبان نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور درجنوں دیگر زخمی ہوگئے۔

 پندرہ اگست کو افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد مظاہرین کے خلاف حملے کا یہ پہلا واقعہ سامنے آیا ہے۔

ٹیگس