Nov ۲۰, ۲۰۲۱ ۱۸:۰۰ Asia/Tehran
  • جارح سعودی اتحاد کے جرائم کے خلاف یمنی شہریوں کا مظاہرہ

مغربی یمن کے صوبہ الحدیدہ کے عوام نے اپنے ملک کے خلاف جارح سعودی اتحاد کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرہ کر کے اس اتحاد کے بہیمانہ جرائم کی سخت مذمت کی۔

المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمنی مظاہرین نے یمن کے عوام اور قیدیوں کے خلاف سعودی اتحاد اور اس کے زرخریدوں کے جرائم اور وحشیانہ اقدامات کی مذمت کی

مظاہرین کا کہنا تھا کہ یمن کے محاصرے اورغذا ، ایندھن اور دواؤں کے حامل بحری جہازوں کو روکنے کے جارح سعودی اتحاد کے اقدامات پر اقوام متحدہ کی خاموشی اس بات کا باعث بنی ہے کہ اقوام متحدہ کو بھی جارح سعودی اتحاد کے جرائم اور اس کے نتائج کا ذمہ دار سمجھا جائے

اس سے قبل یمن کی نیشنل سالویشن حکومت کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے زرخریدوں کے جنگجؤوں کے ہاتھوں گرفتار کئے جانے والے یمنی فوج کے دس قیدیوں کے قتل پر سخت ردعمل ظاہرکیا تھا۔ سعودی آلۂ کاروں نے یمنی فورسز کے دس مجاہدین کو پکڑ کر انہیں قتل کر کے انکے جنازوں کو سمندر میں پھینک دیا تھا جسے یمن کی قومی حکومت نے جنگی جرم قرار دیا تھا۔

یمن کی مرکزی حکومت کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ پست اقدام، تمام بین الاقوامی و انسانی قوانین خاص طور سے جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک کے سلسلے میں جینوا کنوینشن کی سراسرخلاف ورزی ہے۔

یمن کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جارح سعودی اتحاد جس میں امریکہ، امارات اور اس کے زرخرید ایجنٹ شامل ہیں، چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے بدترین شکل میں یمن کے فوجی اور رضاکارفورس کے جوانوں کو قتل کرنے، ان پر تشدد کرنے، ان کی لاشوں کو مسخ کرنے، ان کو جیل میں ڈالنے اور ان کی کھال اتارنے جیسے بدترین و پست ترین اور گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔

یمن کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے عالمی برادری بالخصوص سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کی تمام تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ خاموشی توڑ کر سعودی عرب اور اس کے حمایت یافتہ جارح عناصر کے ان جرائم کی مذمت کریں۔

 

ٹیگس