May ۱۲, ۲۰۲۲ ۰۰:۴۹ Asia/Tehran
  •  اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے فلسطینیوں کے اسلحے، پیش ہیں تفصیلات+ تصاویر

تحریک حماس کی عسکری شاخ نے آج سیف القدس آپریشن کی سالگرہ کے موقع پر ان ہتھیاروں کی باضابطہ نقاب کشائی کی جو اس معرکے میں پہلی بار صیہونی حکومت کے خلاف استعمال ہوئے تھے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آج بروز منگل 10 مئی کو صیہونی حکومت کے خلاف فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کی فوجی شاخ عزالدین القسام بریگیڈ کے "سیف القدس" آپریشن کی پہلی برسی کے موقع پر باضابطہ طور پر ان ہتھیاروں کی تصاویر جاری کی ہیں جن کو پہلی بار سیف القدس آپریشن میں استعمال کیا گیا۔

ذیل میں ان ہتھیاروں کی تصاویر اور تفصیلات بیان کی گئی ہیں جو پہلی بار صیہونی حکومت کے خلاف گزشتہ سال فلسطینیوں کی مزاحمت میں استعمال ہوئے تھے: 

میزائیل  AYYASH 250K

اس میزائل کا نام شہید کمانڈر "یحییٰ عیاش" کے نام پر رکھا گیا ہے، جو عزالدین القسام بریگیڈ کے سینئر کمانڈروں میں سے ایک اور الیکٹرانکس کے شعبے کے ماہر تھے، ان کو 5 جنوری 1996 کو صیہونی ایجنٹوں کی طرف سے ان کے موبائل فون پر نصب کیے گئے ایک بم سے شہید کیا گیا تھا۔

 اس میزائل کی رینج 250 کلومیٹر ہے اور یہ بہت زیادہ تباہ کن ہے۔

میزائیل  A120

اس میزائل کا نام بھی شہید رائد صبحی العطار کمانڈر کے نام پر رکھا گیا ہے جو صہیونیوں کے ہاتھوں پکڑے گئے نمبر ون قیدی کے طور پر شہرت رکھتے ہيں، اگست 2014 میں ان پر صہیونی ہیلی کاپٹروں نے ان کے دو دیگر کمانڈروں قاسم محمد ابو شمالہ اور محمد برہوم کے ساتھ حملہ کرکے تینوں کو شہید کر دیا تھا۔

اس میزائل کی رینج 120 کلومیٹر ہے اور بہت زیادہ تباہ کن ہے۔

میزائیل  SH 85

اس میزائل کا نام شہید کے کمانڈر محمد ابو شمالہ کے نام پر رکھا گیا ہے جو عزالدین القسام بریگیڈ کی سپریم ملٹری کونسل کے رکن تھے، ان کو اگست 2014 میں شہید العطار کے ساتھ شہید کر دیا گیا تھا۔

اس میزائل کی رینج 85 کلومیٹر اور میں بے پیمانے پر تباہی مچانے کی توانائی پائی جاتی ہے۔

خودکش ڈرون طیارہ شہاب

فلسطینی مجاہدین کا بنایا ہوا یہ ڈرون بھی گزشتہ برس پہلی بار صیہونی حکومت کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔ ایک مقامی ڈرون جس نے غزہ کے شمالی ساحل پر صہیونی قصبے نیرعوز میں کیمیائی پلانٹ اور اسرائیلی گیس پلیٹ فارم کو نشانہ بنانے جیسے اہم مشن کو کامیابی سے انجام دیا۔

ڈرون الزواری

ایک مقامی جاسوس ڈرون جس کا نام شہید کمانڈر "محمد الزواری" کے نام پر رکھا گیا ہے۔ الزواری کو جو تیونس کے ایک سائنسدان اور ہوا بازی کے سائنسدان اور خودکش ڈرون کے موجد تھے، موساد نے 2016 میں تیونس میں شہید کر دیا تھا۔

فلسطینی مزاحمت کاروں نے سیف القدس آپریشن کے دوران ڈرونز کا استعمال دشمن کے ٹھکانوں، اڈوں اور صیہونی بستیوں کی شناخت اور نگرانی کے لیے کیا تھا۔

حماس کی عسکری شاخ نے یہ معلومات اپنی ویب سائٹ پر شائع کی اور لکھا کہ گزشتہ سال ایسے ہی ایک دن شام 6 بجے القسام میزائلوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور سیف القدس نامی آپریشن کے باضابطہ آغاز اعلان کیا تھا۔

ٹیگس