Sep ۰۳, ۲۰۲۲ ۱۶:۴۷ Asia/Tehran
  • یمن کا بحران سعودی اتحاد اور اقوام متحدہ کی ملی بھگت کا نتیجہ: صنعا

یمن کی نیشنل آئل کمپنی نے سعودی اتحاد اور اقوام متحدہ کو یمن میں انسانی المیے اور اس ملک کے اقتصادی بحران کا اصل ذمہ دار قرار دیا ہے۔

المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمن کی نیشنل آئل کمپنی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جارح سعودی اتحاد اور امریکہ بدستور یمنی آئل ٹینکروں پر غیرقانونی قبضہ کر رہے ہیں ۔ بیان میں آیا ہے کہ اپریل سے ستمبر کے مابین محض تینتیس تیل لے جانے والے جہازوں کو الحدیدہ بندرگاہ پہنچنے دیا گیا ہے جبکہ ان جہازوں پر قبضے اور سرگرمیوں کی تاخیر کا ہرجانہ گیارہ ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ 
یمن کی نیشنل آئل کمپنی نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ سارے اقدامات اقوام متحدہ کی مرضی سے ہو رہے ہیں کیونکہ اس عالمی ادارے نے جارح سعودی اتحاد کی اجازت کو ان آئل ٹینکروں کے پہنچنے کی شرط قرار دیا ہے۔ اس بیان میں زور دیکر کہا گیا ہے کہ جارح سعودی اتحاد کے ساتھ اقوام متحدہ کی ملی بھگت کے نتیجے میں یمن میں انسانی المیہ رونما ہو رہا ہے ۔

اس بیان میں بتایا گیا ہے کہ سعودی اتحاد کے قبضے میں موجود تمام نو آئل ٹینکروں کو اقوام متحدہ نے ہری جھنڈی دکھا رکھی تھی۔
دوسری جانب یمنی ذرائع نے بتایا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران سعودی جارح اتحاد نے ایک سو تینتالیس بار یمن کی جنگ بندی کو توڑا ہے۔
سبا نیوز ایجنسی کے مطابق، ان یکطرفہ حملوں میں سعودی جیٹ فائٹروں نے چھے بار فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ ریاض کی اتحادی افواج نے مسلح جاسوسی ڈرون طیاروں کے ذریعے مارب، تعز، الجوف، صعدہ، الحدیدہ، الضالع البیضاء اور دوسرے علاقوں میں بتیس بار کارروائی انجام دی گئی ہے۔ اس دوران رہائشی علاقوں، فوج اور یمن کی رضاکار فورس کے مراکز کو بھی چوہتر بار گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا تاہم اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب نے دونوں فریقوں سے معاہدے کی پابندی کی اپیل کی ہے۔ 
باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ سعودی اتحاد ایک جانب یمن کے تیل کے ذخیروں کو لوٹ رہا ہے تو دوسری جانب ایندھن لے جانے والے جہازوں پر قبضہ کرکے اس ملک کو بحران سے دوچار کئے ہوئے ہے۔ 

ٹیگس