Dec ۲۰, ۲۰۲۲ ۰۹:۳۷ Asia/Tehran
  • یمن کو سعودی جنگ سے بیرونی تجارت میں 64 بلین ڈالر کا نقصان

یمنی تاجر سعودی جارحیت کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں، غیرملکی کمپنیوں سے خریدی گئی اشیاء کی حمل و نقل اورمحاصرے کی وجہ سے تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

سحرنیوز/عالم اسلام: انصاراللہ کی یمنی حکومت نے سعودی جارحیت کی وجہ سے یمن کو 2015ء سے 2021ء تک پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ 64.7 بلین ڈالر لگایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یمنی تاجروں  کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے ، غیر ملکی کمپنیوں سے خریدی گئی اشیاء کی حمل و نقل اور کسٹم کلیرنس اور سعودی اتحاد کے محاصرے کی وجہ سے یمن میں داخل نہیں ہوپاتیں جس کی وجہ سے تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یمنی بندرگاہوں پر پہنچنے والے بحری جہازوں کولنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی اور بہت  زیادہ وقت بحری تجارتی جہازوں کے وہاں لنگر انداز نہ ہوسکنے کی وجہ سے  یمنی تاجروں کو جرمانے، اضافی اخراجات اور اشیاء کے استعمال کی تاریخ گزرجانے کے باعث ان کے خراب ہوجانے سے شدید نقصان ہورہا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی کشتی رانی کمپنیاں یمنی بندرگاہوں کی طرف سفر کرنے سے انکار کرتی ہیں اور اس کی وجہ یمن کا سعودی اتحاد کا بحری محاصرہ ہے۔

گزشتہ روز یمن کی سیاسی شورای کے سربراہ مہدی المشاط نے کہا ہے کہ نہ جنگ اور نہ صلح کی صورتحال ہمیشہ برقرار رہنے والی نہیں ہے۔ ہم مناسب وقت پر مناسب اقدامات کریں گے اور سعودی اتحاد کے بچھائے گئے جال میں نہیں پھنسیں گے۔ ہم صلح و امن کے قیام اوریمن کی حاکمیت اور استقلال پر پھر زور دیتےہیں اور اس حوالے سے کسی بھی اقدام کا استقبال کرتے ہیں۔

 

ٹیگس