Apr ۲۶, ۲۰۲۳ ۰۸:۴۹ Asia/Tehran
  • سلامتی کونسل کی خاموشی  اور جوابدہی کے فقدان نے صیہونی حکومت کو مزید گستاخ بنا دیا: ایران (ویڈیو)

سلامتی کونسل نے اپنی خاموشی سے فلسطینی عوام کو ایک دائمی انتہا پسندی کی زد پر لا کھڑا کیا ہے، یہ بات اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہی۔

سحر نیوز/عالم اسلام: منگل کے روز مغربی ایشیا اور فلسطین کی صورتحال کا جائزہ لینے کے مقصد سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اجلاس ہوا۔ اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے کہا کہ پچہتر سال ہو چکے ہیں کہ فلسطینی قوم کو اسرائیلی رجیم کی دائمی جارحیت، انتہا پسندی اور ظلم و زیادتی کا سامنا ہے، انکی سرزمینوں کو غصب کرنے کا سلسلہ جاری ہے، انکے شہر محاصرے میں ہیں، انکے اموال، کھیت کھلیان اور باغات کو تاراج کیا جا رہا ہے اور لوگوں کو اپنے مکانات ترک کر دینے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے مزید کہا کہ رواں برس کے آغاز سے فلسطینی عوام کو غاصب صیہونی فوجیوں اور غیر قانونی صیہونی آبادکاروں کی جانب سے حد سے زیادہ انتہا پسندی اور سرکوبی کا سامنا ہے جس سے اب تک سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکیس بچے شامل ہیں، عام شہریوں کو گرفتار یا انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، تقریبا پانچ ہزار فلسطینیوں کو غیر قانونی اور خودسرانہ طور پر جیلوں میں بند کر رکھا ہے جن میں اکتیس خواتین اور ایک سو ستر بچے شامل ہیں اور انکے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے اس قسم کے ہولناک اقدامات غاصب صیہونی حکومت کے ہاتھوں فلسطینیوں کے حقوق کی سسٹمیٹک پامالی کا ایک حصہ ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کی واضح مثال ہیں۔ ایران کے مستقل مندوب نے سلامتی کونسل سے اپیل کی کہ وہ مسجد الاقصیٰ کے نمازیوں منجملہ خواتین اور بچوں پر وحشیانہ حملوں کی شدید ترین ممکنہ شکل میں مذمت کرے۔

ایروانی کا مزید کہنا تھا کہ جوابدہی کے فقدان نے اس منفور صیہونی حکومت کو مزید گستاخ بنا دیا ہے اور وہ اقوام متحدہ منجملہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پامالی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

خیال رہے کہ سلامتی کونسل کے جلسے میں حاضر ناجائز صیہونی حکومت کا نمائندہ اپنے سلسلے میں ایران کے موقف کا متحمل نہ ہو سکا اور فوراً اٹھ کر باہر چلا گیا۔

 

ٹیگس