صیہونی فوج ، غزہ میں امداد کے لئے کارروائی نہیں روکے گی
مغربی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے زمینی کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے غزہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کو اپنے نشانے پر لے رکھا ہے جس سے اس علاقے میں امدادی سرگرمیاں شدید طور پر متاثر ہو گئی ہیں۔
سحرنیوز/عالم اسلام: انسانی دوستانہ سرگرمیوں میں مصروف تنظیموں اور حتیٰ صیہونی حکومت کے قریبی اتحادیوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ تن یاہو کابینہ کے یہ اقدامات غزہ کے ان لاکھوں شہریوں کے لیے تباہ کن ہوں گے جو پہلے ہی بھوک، بیماری اور حکومت کے حملوں سے نبردآزما ہیں۔
صیہونی فوج نے ایکس پر اپنے جاری کردہ ایک بیان میں اعلان کیا کر دیا ہے کہ جمعہ کی صبح سے غزہ شہر میں ’’لوکل ٹیٹیکل پاز‘‘ کے تحت اب مزید جنگ کو روکا نہیں جائے گا اور اب پورا علاقہ ایک "خطرناک جنگی علاقہ" سمجھا جائے گا۔
صیہونی فوج کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آٰیا ہے کہ جب غزہ شہر میں شہریوں کے انخلا کے لیے حوالے سے ابھی تک کوئی احکامات جاری نہیں کئے گئے ہیں۔
اس درمیان غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران غذائی قلت سے کم از کم پانچ اور صیہونی فوجیوں کے براہ راست حملوں میں انسٹھ فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
غزہ میں سرگرم غزہ ہیومینی ٹیریئن فاؤنڈیشن کے نام سے موسوم امریکہ کے نام نہاد امدادی ادارے کے سابق اہلکار اینتھونی ایگیولر نے انکشاف کیا ہے کہ یہ امریکی فاؤنڈیشن مکمل طور پر اسرائیل سے ملا ہوا ہے اور اس کے وجود میں لانے کا مقصد ہی غزہ والوں پر بھوک کو مسلط کر کے انہیں جبراً انخلا پر مجبور کرنا ہے۔
مذکورہ امریکی افسر جو اب اس فاؤنڈیشن سے استعفیٰ دے چکے ہیں، کہتے ہیں کہ "غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگ کا قہری نتیجہ نہیں بلکہ غزہ کے لوگوں کو بھوکا مارنے اور انہیں ان کے گھروں سے جبراً نکالنے کے ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے اور میں نے خود اپنی آنکھوں سے صیہونی فوجیوں کو بھوکے فلسطینیوں پر فائرنگ کرتے دیکھا ہے۔