Jun ۲۵, ۲۰۲۲ ۲۱:۴۵ Asia/Tehran
  • جی-20 اجلاس کے ہندوستانی فیصلے کی پاکستان نے مخالفت کر دی

پاکستان نے ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں نئی دہلی کی کی جانب سے اگلے برس جی-20 ممالک کے اجلاس کے انعقاد کے منصوبے کی مخالفت کی ہے۔

سحر نیوز/ پاکستان: پاکستان کے دفترخارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے ہندوستانی حکومت کی جانب سے اگلے برس جموں و کشمیر میں جی-20 اجلاس کے منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کے دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان پڑوسی ملک کے منصوبے کی مذمت کرتا ہے اور زور دیتا ہے کہ کشمیر، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ‘متنازع’ خطہ ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے بیان میں آیا ہے کہ ہندوستان خطے میں وسیع پیمانے پر ظلم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ہے، جب سے 5 اگست 2019 کو کیے گئے غیرقانونی اور یک طرفہ کارروائی کی ہے، ہندوستانی فورسزنے ماورائے قانون 639 بے گناہ کشمیریوں کو قتل کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کی کئی رپورٹس بشمول انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کی 2018 اور 2019 کے دو کمیشن تصدیق کر چکے ہیں کہ کشمیری عوام کے خلاف ہندوستانی جبر جاری ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے بیان میں آیا ہے کہ کشمیر میں جی-20 اجلاس یا ایونٹ رکھنے کی منصوبہ بندی خطے کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوگی اور اس دھوکا دہی کو عالمی برادی کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے کشمیر میں اگلے برس جی- 20 اجلاس کی میزبانی کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے انتظام کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

ٹیگس