Sep ۱۵, ۲۰۲۲ ۱۹:۱۳ Asia/Tehran
  • عمران خان کی تقریر غلط تھی تاہم  دہشت گردی کا کیس نہیں بنتا: اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ جس تقریر پر عمران خان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ قائم کیا گیا ہے وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں، جمعرات کو عمران خان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ خارج کرنے کی اپیل پر سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ عمران خان کی تقریر بہت غلط تھی اور انھوں نے نامناسب الفاظ استعمال کئے لیکن دہشت گردی کا کیس نہیں بنتا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر بتائیں کہ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ کیسے بنتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اس تقریر پر توہین عدالت کا کیس الگ سے چل رہا ہے، لیکن دہشت گردی کے جرم کو اتنی چھوٹی سطح پر نہ لایا جائے ۔ اس ریمارکس کے بعد عدالت نے مقدمے کے سماعت انیس ستمبر تک کے لئے ملتوی کردی ۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قریبی ساتھی شہباز گل کی گرفتاری اور انہیں پولیس کی ریمانڈ میں دیئے جانے کے بعد ایک تقریر میں خاتون جج کے خلاف دھمکی آمیز الفاظ استعمال کئے تھے ۔ اس تقریر پر ان کے خلاف توہین عدالت اور دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے گئے ۔

ٹیگس