Feb ۱۵, ۲۰۲۳ ۱۵:۵۴ Asia/Tehran
  • پاکستان میں منی بجٹ سے مہنگائی کا طوفان آسکتا ہے: اقتصادی امور کے ماہرین

پاکستان میں حکومت کے منی بجٹ کے نتائج کی جانب سے سخت تشویش پائی جاتی ہے۔

سحر نیوز/پاکستان: پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں فنانس بل 2023ء پیش کردیا، جس کے مطابق لگژری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافہ کرکے 25 فی صد تک کردیا گیا ہے۔

مالی ضمنی بل 2023ء قومی اسمبلی میں پیش  کیے جانے کے موقع پر وزیراعظم ایوان میں شریک نہیں ہوئے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ مجوزہ حکومت کو آئے ہوئے چند ماہ گزرے تھے، اس دوران معیشت کو سنبھالا ہی دیا جا رہا تھا کہ سیلاب آ گیا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے  8 ہزار ارب سے زیادہ نقصان ہوا۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عمران خان حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا تھا، وہ ضرور پڑھیں۔ یہ صرف ایک حکومت کا نہیں، ریاست کا معاہدہ تھا ۔ عمران خان نے اپنے معاہدے سے انحراف کیا۔ عدم اعتماد کی وجہ سے انہوں نے معاہدے کے برعکس فیصلے کیے۔ اس وجہ سے آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔

فنانس بل پیش کرتے ہوئے خطاب کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کا نواں مشن آیا اور 10 دن تک ہمارے مذاکرات ہوئے، ہم نے مختلف معاملات پر عملدرآمد کا عندیہ دیا۔ جب ہماری حکومت آئی تو ملک پر 34 ہزار ارب کے قرضوں کا بوجھ پڑ چکا تھا۔ ہماری سال 2013ء کی حکومت میں مہنگائی 2 فیصد تک تھی۔ پاکستان 6 فیصد کے حساب سے ترقی کررہا تھا۔ ایک تبدیلی 2018ء میں لائی گئی، جس نے پاکستان کو دنیا کی 20 ویں سے 47 ویں نمبر پر پہنچا دیا۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی صدارت میں تقریباً ایک گھنٹے تاخیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں وزیر خزانہ نے عوام کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سادگی اختیار کریں۔

پاکستان کے اقتصادی اور معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کا منی بجٹ ملک میں مہنگائی کا طوفان لائے گا۔ 
حکومت کے منی بجٹ میں پر تعیش اشیا پر ڈیوٹی کی شرح بڑھا کر پچیس فیصد تک پہنچادی  گئی اور تعیش اور لگژری اشیا پر ٹیکس بڑھا سے حکومت کو ساٹھ سے ستر ارب روپے کی آمدنی ہوگی ۔ 

ٹیگس