Jun ۰۲, ۲۰۲۰ ۱۹:۲۴ Asia/Tehran
  • ٹرمپ نے مظاہروں کو داخلی دہشت گردی قرار دیا

امریکا میں، پولیس اور سیکورٹی دستوں کی جانب سے مظاہرین کی وحشیانہ سرکوبی میں شدت کے ساتھ ہی نسل پرستی، انسانی حقوق کی پامالی اورعوام کے ساتھ ریاستی دہشت گردی کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں شدت اور وسعت آ گئی ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے کرفیو نافذ کرنے کے اعلان کے کچھ ہی دیر کے بعد چیف آف اسٹاف جنرل مارک میلی نے مظاہرین کی سرکوبی کا جائزہ لینے کے لیے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے۔ جنرل مارک میلی نے ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والی ایک ویڈیو کلپ میں کہا ہے کہ ملکی آئین کے تحت پُر امن مظاہرے کرنا تمام شہریوں کا حق ہے۔

اسی دوران اطلاعات ہیں کہ ہزاروں امریکی شہریوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، ساتویں روز بھی سڑکوں پر مارچ اور پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کے قتل کے خلاف احتجاج کیا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو ملک گیر مظاہروں کے بعد دو روز قبل روپوش ہوگئے تھے، پیر کو منظرعام عام پر آ گئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں بد امنی کے خاتمے کے لیے اپنے قانونی اختیارات کے استعمال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مختلف شہروں میں نیشنل گارڈ کی وافر نفری تعینات کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ریاستی گورنروں نے ان کے حکم کی تعمیل سے گریز کیا تو وہ فی الفور فوج کو تعنیات کرنے کا حکم دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ، حالیہ مظاہرے پرامن نہیں ہیں بلکہ یہ داخلی دہشت گردی ہے۔ امریکی صدر نے ملک کی حالیہ بدامنی کو داخلی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے خلاف جنگ کے لیے پر عزم ہیں۔

ادھر نیویارک کے ڈیموکریٹ گورنر اینڈریو کومو نے ملک میں سیکڑوں سال سے جاری نسلی تعصب کے خلاف ہونے والے پرامن مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے ٹوئٹ در اصل لوگوں کو سڑکوں پر تشدد کی دعوت دینے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نا انصافیوں کے خلاف آواز سے آواز ملاتے ہوئے مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

نیویارک کے گورنر نے مزید کہا کہ جارج فلوئیڈ کی طرح کے سیاہ فام افریقی نژاد امریکی شہریوں کے قتل کے پچاس یا اس سے بھی زیادہ کیس موجود ہیں اور ان کی جڑیں ملک میں سیکڑوں سال سے چلی آ رہی نسل پرستی اور ناانصافیوں میں پیوست ہیں۔

درایں اثنا سیاہ فام امریکی شہری جارج فلوئیڈ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کر دی گئی ہے کہ یہ شخص، اپنی گردن اور پشت کی جانب سے سینے پر پڑنے والے شدید دباؤ کے باعث دم گھٹنے سے ہلاک ہوا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس اہلکار نے اپنے گھٹنے سے جارج فلوئیڈ کی گردن کو دبایا اور اس کی ان کوششوں کو نظر انداز کر دیا جو وہ دم گھٹنے سے بچنے کی خاطر کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق جارج فلوئیڈ کی گردن پر پڑنے والا شدید دباؤ دماغ تک خون کی فراہمی بند ہونے اور دم گھٹنے کا سبب بنا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے پیر کے روز امریکی ریاست منے سوٹا کے شہر منیاپولس کے ایک سفید فام پولیس اہلکار نے سیاہ فام امریکی شہری جارج فلوئیڈ کو انتہائی بہیمانہ طریقے سے گلا دبا کر قتل کردیا تھا۔ اس ہولناک واقعے کی ویڈیو کلپ منظر عام پر آنے کے بعد سے امریکہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ پولیس کے نسل پرستانہ رویئے کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو تاحال جاری ہے۔

سیاہ فام امریکی شہری کے قتل کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کا دائرہ ملک گیر سطح پر پھیل جانے کے بعد امریکہ کے چالیس سے زیادہ شہروں میں ہنگامی حالت کا اعلان اور کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

ٹیگس

کمنٹس