Feb ۱۸, ۲۰۲۳ ۱۴:۳۰ Asia/Tehran
  • مغربی ممالک کا جنگ یوکرین کو مزید طول دینے کا فیصلہ

مغربی ممالک نے جنگ یوکرین کو مزید طول دینے کی غرض سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

سحر نیوز/ دنیا: فن لینڈ کے وزیر خارجہ پیکا ہاوسٹو نے بتایا ہے کہ ان کے ملک نے یوکرین کو مزید چار سو ملین یورو مالیت کے بھاری ہتھیار فراہم کیے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یورپی یونین کی وزارتی کونسل میونخ سیکورٹی اجلاس کے موقع پر یوکرین کی امداد میں اضافے کا جائزہ لے گی۔
فن لینڈ کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یوکرین کی دائمی حمایت کا معاملہ ہمارے ایجنڈے میں شامل ہے اور جب تک ضروری ہوا ہم یوکرین کے لیے ہتھیار بھیجتے رہیں گے۔ 
برطانوی وزیراعظم رشی سنک نے بھی میونخ سیکورٹی کانفرنس کے دوران مغربی ممالک سے یوکرین کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کو دوگنا کرنے کا مطالبہ کیا۔
روزنامہ اینڈی پینڈنٹ کے مطابق سنک نے میونخ سیکورٹی کانفرنس کے دوان کہا ہے کہ ہمیں یوکرین میں طویل المدت سیکورٹی کی خاطر مزید اقدامات انجام دینا ہوں گے اور نیٹو کے معیاروں کے تحت وہ تمام طاقت بھی فراہم کرنا ہوگی جس کی آئندہ کے لیے اسے ضرورت ہے۔ 
رواں ہفتے کے آغاز میں برطانونی وزیراعظم اور پولینڈ کے صدر آندرے دودا نے یوکرین کی امداد اور حمایت بڑھانے پر اتفاق کیا تھا اور برطانیہ نے یوکرینی پائلٹوں کو تربیت دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی جس پر عنقریب عمل درآمد کی توقع ہے۔ 
درایں اثنا پولینڈ کے وزیراعظم میٹیوز موراویکی نے کہا ہے کہ ان کا ملک یوکرین کو دوسرے جیٹ طیارے دینے کو تیار ہے تاہم واضح کیا ہے کہ ایف سولہ طیارے دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ 
دوسری جانب جرمنی میں ایک دستخطی مہم جاری ہے جس میں اس ملک کے چانسلر اولاف شلز سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یوکرین کو ہتھیار بھیجنا بند کریں اور اس کے بجائے ماسکو اور کیف کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی توانائیاں بروئے کار لائیں ۔ پیس مےنی فسیٹو کے نام سے دس فروری سے جاری اس دستخطی مہم پر جمعے کی رات تک پانچ لاکھ چھے ہزار ایک سو ستاون افراد دستخط کرچکے تھے۔
دستخطی مہم کی محرک اور قائد حزب اختلاف سارہ ویگنک نشت نے اس دستخطی مہم کی حمایت میں پچیس فروری کو برلین میں مظاہرے کا اعلان اور عوام سے اس میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل کی ہے۔ 
ادھر جرمن چانسلر نے میونخ سیکورٹی کانفرنس کے دوران اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یوکرین کو ہتھیاروں کی ترسیل کے معاملے میں ان کے ملک میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے تاہم انہوں نے اتحادی ملکوں سے اپیل کہ وہ جتنا جلد ممکن ہو کیف حکومت کو جدید ترین ٹینک فراہم کریں۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر جان کربی نےدعویٰ کیا ہے کہ روسی حکومت نے تاحال مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کا کوئی عندیہ نہیں دیا ہے ۔
انھوں نے اسی کے ساتھ واضح کیا کہ امریکہ بھی اس وقت یوکرین روس امن مذاکرات شروع کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہا۔ 
یہ ایسی حالت میں ہے کہ روسی ایوان صدر کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ ہمیں یوکرینی صدر کی جانب سے امن مذاکرات میں دلچسپی کا رجحان دکھائی نہیں دے رہا اور بحران کے حل کے بارے میں ان کے بیانات حقائق کے منافی ہیں۔ 
قابل ذکر ہے کہ میونخ سیکورٹی کانفرنس جمعے کو یوکرینی صدر کی تقریر سے شروع ہوئی جس میں انہوں نے اپنے ملک کے لیے فوری امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ 
مغربی ممالک نے حال ہی میں اس ملک میں جنگ کا بہانہ بنا کر یوکرین کو ہتھیاروں کی ترسیل میں اچانک اضافہ کر دیا ہے۔
روس نے بارہا کہا ہے کہ مغربی ملکوں کی جانب سے یوکرین کو ہتھیار بھیجنے سے ملک میں تنازعہ طول پکڑے گا اور اس کے غیر متوقع نتائج برآمد ہوں گے۔
روسی حکام اور بعض مغربی ماہرین اور صحافتی حلقے یوکرین کی جنگ کو مغرب اور روس کے درمیان پراکسی وار قرار دے رہے ہیں۔ 

ٹیگس