Jun ۲۱, ۲۰۲۳ ۱۲:۵۹ Asia/Tehran
  • بلنکین کا دورۂ چین بھیک مانگنے کے لئے تھا: شمالی کوریا

شمالی کوریا نے امریکی وزیر خارجہ کے دورۂ چین کو بھیک مانگنے کا ایک شرم ناک دورہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ کے چین پر دباؤ ڈالنے کی ناکامی کا پتہ چلتا ہے

سحرنیوز/دنیا: شمالی کوریا کی نیوز ایجنسی یونھاپ کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے تجزیہ کار جونگ یونگ ہاک نےامریکی وزیر خارجہ کے دورہ چین کے بارے میں اپنے تجزیہ میں کہا ہے کہ انٹونی بلینکن خراب تعلقات میں بہتری کےلئے چین سے التماس کرنے گیا تھا کیونکہ بیجنگ پر دباؤ کی پالیسی نے خود امریکی اقتصاد پر بہت بڑا وار کیا ہے اور اس سے امریکہ چین کا آمنا سامنا ایک بہت بڑی جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔جونگ یونگ ھاک نے اپنی انگریزی زبان میں لکھے گئے مضمون میں مزید کہا کہ یہ منافقانہ رویہ امریکہ کا مخصوص رویہ ہے کہ پہلے دوسرے کو بھڑکاتے ہیں اور پھر اس کے بعد نظریاتی اختلاف کو ذمہ دارانہ طور پر کنٹرول کرنے کی بات کرتے ہیں۔ شمالی کوریا کے اس تجزیہ کار نے کہا کہ انٹونی بلینکن کا دورہ، چین سے شرم ناک طور پر بھیک مانگنے کی درخواست کا دورہ تھا کیونکہ ان کی چین پر دباؤ کی پالیسی ناکام ہو گئی ہے۔یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے چین کا دو روزہ دورہ کیا ہے جو کسی بھی امریکی وزیر خارجہ کا گزشتہ پانچ سال میں ہونے والا پہلا دورہ ہے، اس دورے کے دوران بیجنگ اور واشنگٹن نے باہمی تعلقات میں شدت کے باوجود دو طرفہ تعلقات میں استحکام پیدا کرنےپر آمادگی کا اظہار کیا ہے اگرچہ اس دورہ میں امریکہ کو کوئی خاص کامیابی نہیں مل سکی۔یاد رہے کہ اس اختلاف کے ماحول میں شمالی کوریا کی طرف سے جاسوسی سیٹلائیٹ کو خلا میں بھیجنے کے لئے راکٹ فائر کرنےکے بھی خدشات ہیں جبکہ امریکہ نے چین سے درخواست کی ہے کہ چین شمالی کوریا پر اپنے اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے شمالی کوریا کو اشتعال انگیز اقدامات کرنے سے روکے۔

ٹیگس