Dec ۱۱, ۲۰۲۳ ۱۴:۴۷ Asia/Tehran
  • پاکستان سے نکالے جانے والے افغان پناہ گزینوں کو مسائل و مشکلات کا سامنا

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے کہا ہے کہ اگر پاکستان سے نکالے جانے والے افغان پناہ گزینوں کے لئے سردی سے بچاؤ کا فوری انتظام نہ کیا گيا تو ان میں سے ایک بڑی تعداد سردی کی وجہ سے موت کے منہ میں جاسکتی ہے۔

سحر نیوز/ دنیا: اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرحدی گزرگاہوں پر موسم بہت ٹھنڈا ہے اور سرحد پر پہنچنے والے افراد کو فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے۔

افغانستان کے بعض علاقوں میں سردی پڑ رہی ہے اور پاکستان سے نکالے جانے والے بہت سے خاندانوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ افغانستان میں اپنی زندگی کا آغاز کہاں سے اور کیسے کریں۔ پاکستان نے اکتوبر کے مہینے میں ایک اعشاریہ سات ملین افغان پناہ گزینوں سمیت غیر قانونی غیر ملکیوں کے لئے پاکستان چھوڑنے کی ڈیدلائن معین کی تھی اور کہا تھا کہ ڈیڈ لائن کے بعد انہیں نکال دیا جائے گا۔

دریں اثناء موصولہ رپورٹوں کے مطابق اکتوبر کے ابتدائی دنوں سے اب تک کم از کم پانچ لاکھ افغان پناہ گزیں پاکستان سے نکالے جا چکے ہیں یا اپنی مرضی سے اپنے ملک چلے گئے ہیں۔

اسلام آباد نے اکتوبر کے شروع میں ایک اعشاریہ سات ملین غیر قانونی افغان پناہ گزینوں سے کہا تھا کہ اگر وہ یکم نومبر تک پاکستان سے نہیں گئے تو انہیں نکال دیا جائے گا۔ ڈیڈ لائن کی مدت ختم ہونے کے بعد پاکستانی پولیس نے غیر قانونی مہاجرین اور پناہ گزینوں کی گرفتاریوں اور انہیں ملک سے نکالنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق روزانہ ہزاروں افراد سرحدی گزرگاہوں سے افغانستان میں داخل ہو رہےہیں۔

ٹیگس