May ۰۶, ۲۰۲۴ ۱۶:۲۱ Asia/Tehran
  • امریکی طلبہ کی سرکوبی اور پولیس کارروائی کی مذمت

امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کی طلبہ کونسل نے مظاہرین کی آواز دبانے کے لئے حکومت کے جارحانہ اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ہمارے ساتھ خیانت اور دھوکا کیا ہے۔

سحرنیوز/ دنیا: کولمیبا یونیورسٹی کی طلبہ کونسل نے یونیورسٹی حکام کی جانب سے طلبہ مظاہرین کے مطالبات پر توجہ نہ دینے، طلبہ کی سرکوبی کے لئے پولیس کارروائی کرنے اور طلبہ مظاہرین تک کھانے پینے کی چيزیں اور طبی امداد نہ پہنچنے دینے پر سخت تنقید کی ہے۔

طلبہ کونسل نے اپنے بیان میں زور دے کر کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے ہمارے ساتھ خیانت کی ہے - طلبہ کونسل نے اپنے بیان میں کولمبیا یونیورسٹی پر پولیس کے حملے اور طلبہ کے ساتھ پولیس کے وحشیانہ رویے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے حملے کے دوسرے دن طلبہ ایسی حالت میں نیند سے بیدار ہوئے کہ ان کے چہروں پر سوجن تھی اور کلائياں نیلی و زخمی تھیں اور یہ سب پولیس کے غیرانسانی رویے کا ثبوت تھا۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ کولمبیا یونیورسٹی پر پولیس کے حملے کا بیج چھے مہینے پہلے ہی بویا جا چکا تھا جب چوبیس اکتوبر کو یونیورسٹی کے اعلی حکام نے فلسطین کی حمایت میں انجام پانے والے طلبہ کے پرامن مظاہروں کے بعد مظاہروں کو منظم کرنے کے بہانے یکطرفہ طور پر پولیس کو مداخلت کرنے کی اجازت دے دی اور طلبہ تنظیموں اور اس کے ممبران پر پابندیاں عائد کردی۔

بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے ان اقدامات کا نتیجہ تیرہ نومبر کو سامنے آگيا جب ، کولمبیا یونیورسٹی ميں خوف و ہراس پیدا کرنے جیسے بے بنیاد الزامات کے بہانے امن کے لئے یہودیوں کی آوازاور طلبہ برائے انصاف نامی گروہوں پر پابندیاں عائد کردی گئيں ۔ جس چيز نے طلبہ مظاہرین میں غم و غصہ بھڑکا دیا وہ یہ تھا کہ حکام نے سیاستدانوں، ریڈیکلس شخصیات اور موقع پرستوں کو یونیورسٹی میں سرگرمیاں انجام دینے کے مواقع فراہم کرنا اور ہمارے مظاہروں اور دھرنوں کو تحفظ اور سیکورٹی فراہم کرنے کے وعدوں کے برخلاف یونیورسٹی کو کشیدگی کا مرکز بنا دینا تھا

امریکی یونیوسٹی کے طلبہ ایک بار پھر دنیا میں تسلط پسندانہ نظام کے خلاف احتجاج اور دھرنوں کی روایات پرعمل شروع کردیا ہے اور یونیورسٹی گراؤنڈ میں دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں تاکہ غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم کی مخالفت کا اعلان اور غاصب صیہونی حکومت کے تجارتی لین دین بند کرنے کا مطالبہ کریں ۔

جب سے تحریک حماس اور غاصب صیہونی حکومت کے درمیان تصادم شروع ہوا ہے اس وقت سے آج تک پنتیس ہزار سے زیادہ نہتھےفلسطینی شہید ہوچکے ہيں جن میں ستّر فیصد سے زيادہ خواتین اور بچے ہيں ۔

غزہ پٹی میں اسرائیلی جرائم کے روز بروز نئے پہلو میڈیا کے ذریعے سامنے آنے اور اسپتالوں پر صیہونی فوجیوں کے جارحانہ حملوں کے ساتھ ہی خواتین پر جنسی تشدد اور جنگي جرائم کے ارتکاب نے پوری دنیا کے عوام کے دلوں کو افسردہ و غمگین کر دیا اور اسی چیز نے عوام کو ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور کیا ہے اور اس بنا پر مختلف ملکوں کے شہروں کی سڑکوں پر مسلسل مظاہرے ہو رہے ہيں اور غاصب صیہونی حکومت کے غیرانسانی اقدامات کا مقابلہ کرنے اور غزہ کے عوام و ان کی استقامت کی حمایت کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

طلبہ بھی سماج کے سمجھدار اور ذمہ دار طبقے کی حیثیت سے اس سے مستثنی نہيں ہیں اور وہ بھی عوام کے دیگر طبقات کی مانند صیہونیوں کی جنگ و جرائم کے آغاز کے بعد سے ہی غزہ میں صیہونیوں کے جرائم کی مخالفت میں صیہونی حکومت کے ساتھ تجارتی معاہدے نہ کرنے اور ان کے پروڈکٹ کے بائیکاٹ کرنے کے لئے یونیورسٹیوں کے اندر اور باہرے مظاہرے اور دھرنے دے رہے ہیں

امریکی طلبہ نے گذشتہ عشروں کے دوران سن ساٹھ میں جنگ ویتنام یا سن اسّی میں جنوبی افریقہ کے اپارتھائيڈ نظام جیسے سماجی موضوعات میں بھرپور حصہ لیا تھا اور احتجاجی مظاہرے و دھرنے دے کر رائے عامہ کی توجہ اپنی اور اپنے مطالبات کی جانب دلانے کی کوشش کرتے رہے ہيں ۔

بنابریں غزہ پر اسرائیلی حکومت کے حملوں کے خلاف یونیورسٹیوں کے اندر اور باہر ان کا احتجاج ، ریلیوں ، مظاہروں اور دھرنوں کی شکل میں ان کے اقدامات حیرت انگیز نہيں ہيں ۔

 

ٹیگس